گلگت-بلتستان انتخابات: پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنے امیدواروں کو ٹکٹس جاری کردیے

نارووال: پاکستان مسلم لیگ (ن) نے گلگت-بلتستان (جی بی) میں 16 نومبر کو ہونے والے انتخابات کے لیے 18 امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ جاری کردیے۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمٰن جی بی حلقہ نمبر 2 (سی این 2) سے امیدوار ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلٰی نے گزشتہ 5 سالوں میں جی بی کو مثالی قیادت فراہم کی اور ریکارڈ ترقیاتی کام انجام دیے۔

احسن اقبال نے بتایا کہ ذوالفقار علی (سی این 3)، انجینئر عارف حسین (سی این ۔4)، سجاد حسین (سی این 5)، ریحان شاہ (سی این ۔6)، حاجی اکبر (سی این ۔7)، ایڈووکیٹ غلام حسین (سی این 10)، انجینئر شبیر حسین (سی این 11)، محمد طاہر (سی این 12)، رانا فرمان علی (سی این 13)، عبدالوحید واجد (سی این 15)، انجینئر محمد انور (سی این 16)، عالم (سی این 17)، عاطف سلمان (سی این 19)، رضا الحق (سی این 21)، غلام حسین (سی این 23) اور انجینئر منظور حسین (سی این 24) سے امیدوار ہوں گے۔

مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ دیگر حلقوں کے لیے پارٹی ٹکٹ بعد میں جاری کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جی بی کے عوام نے پاکستان کے لیے بہت قربانیاں دیں، ’جی بی میں شاید ہی کوئی گاؤں ہے جس میں کسی شہید کی قبر نہیں ہے، یہ خطہ پاکستان کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے، یہ چین اور پاکستان کا دروازہ ہے‘۔انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں جی بی کا کلیدی کردار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) جی بی کے عوام کو نمائندگی کا حق دلانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے، عوام صاف اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے ہی یہ حق حاصل کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے کشمیر سے متعلق ملک کے مؤقف کو نقصان پہنچایا ہے اور اب یہ جی بی کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہی ہے۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی حکومت نے جی بی کے ترقیاتی بجٹ کو دگنا کیا ہے۔

واضح رہے کہ جی بی کے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ جی بی انتخابات میں ’متوقع دھاندلی‘ کے بارے میں کچھ سیاسی رہنماؤں کی طرف سے اٹھائے جانے والے شور کا کوئی جواز نہیں ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جی بی پولس میں دھاندلی کے امکان کے بارے میں پائے جانے والے خدشات کے ردعمل میں انہوں نے رہنماؤں سے انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی خرابی کی نشاندہی کرنے کو کہا اور کہا کہ ’ہم اس کو ٹھیک کریں گے‘۔

عہدیدار نے گلگت میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنما جی بی انتخابات کے انتظامات سے مطمئن ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور وفاقی وزرا کو جی بی انتخابی مہم میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ جی بی سے باہر کے رہنما پرامن انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے یہاں آنے سے گریز کریں۔جمعہ کے روز پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے خبردار کیا تھا کہ جی بی انتخابات میں دھاندلی کا کوئی اقدام اس کی پارٹی کی طرف سے سخت ردعمل کا باعث بنے گا جس میں اسلام آباد کا محاصرہ اور شہر میں دھرنا بھی شامل ہے۔

کراچی میں بلاول ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے جی بی میں پرامن اور شفاف انتخابات کے حوالے سے متعلقہ افسران کے بیانات کا خیرمقدم کیا تاہم کہا کہ ’اگر یقین دہانیوں کو عملی شکل دینے میں ناکام ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین اپنی پارٹی کی حکمت عملی کے بارے میں واضح ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی ان انتخابات میں دھاندلی کرنے کی کوشش کرتا ہے تو میں ذاتی طور پر جی بی کے لوگوں کے ساتھ اسلام آباد جاؤں گا، ہم اسلام آباد کی سڑکوں پر ہوں گے اور انصاف ملنے تک واپس نہیں آئیں گے‘۔مسلم لیگ (ن) نے بھی انتخابات میں دھاندلی کے لیے کسی بھی قسم کی کوشش کے خلاف وفاقی حکومت کو خبردار کیا ہے۔

احسن اقبال نے چند ہفتوں قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان کا مفاد جی بی میں آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانے میں ہے، پاکستان جی بی میں کسی بھی طرح کے سیاسی تنازع کا متحمل نہیں ہوسکتا جو خطے میں پہلے ہی فلیش پوائنٹ بن چکا ہے اور بہت سے ممالک فائدہ اٹھانے کے لیے اس پر نگاہ ڈال رہے ہیں‘۔