کووڈ-19 کیسز میں اضافہ، وفاقی وزرا کا احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے پر زور

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و خصوصی اقدامات اسد عمر نے ملک میں گزشتہ کووڈ-19 کیسز کی شرح میں 2 فیصد اضافے پر شہریوں کو حکام سے تعاون کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔

اسد عمر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ ‘کورونا وائرس کے مثبت ٹیسٹ کی اوسط قومی سطح پر 6 ہفتوں تک 2 فیصد سے کم رہنے کے بعد پچھلے ہفتے 2 فیصد سے زیادہ رہی ہے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘کراچی، اسلام آباد اور آزادکشمیر میں منی اسمارٹ لاک ڈاؤن دوبارہ نافذ، ملک بھر میں انتظامیہ کو حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے لیکن کامیابی پہلے کی طرح عوام کے تعاون کے بغیر ناممکن ہے’۔

اسد عمر کے بعد وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے بھی حفاظتی اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب تک خوش قسمت رہا ہے لیکن ملک میں وائرس کی دوسری لہر سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘بڑے عوامی اجتماعات نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ صرف اسی سے دوسری لہر آسکتی ہے’۔

وفاقی وزرا کی جانب سے یہ اپیل پنجاب میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ-19 کے 203 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد کی گئی ہے۔

خیال ر ہے کہ پنجاب میں 15 اگست کے بعد پہلی مرتبہ 200 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی کیسز کی مجموعی تعداد بھی بڑھ کر ایک لاکھ 687 ہوچکی ہے۔

ملک کے دیگر حصوں سے کورونا کے کیسز میں اضافے کی رپورٹس موصول ہوئی اور گزشتہ روز اسلام آباد کی انتظامیہ نے شہر کے مختلف علاقوں میں منی اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کردیا تھا۔

کراچی اور آزاد جموں و کشمیر میں بھی اکتوبر کے شروع میں ہی اسی طرح کے اقدامات کیے گئے تھے، حکومت سندھ نے منگھوپیر، ڈیفنس فیز 8 کے کریک ویسٹا اپارٹمنٹ اور صدر سے متصل متعدد مقامات سمیت مخلتف علاقوں میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے پر منی اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔

آزاد جموں و کشمیر میں گزشتہ ہفتے حکام نے خاص کر مظفر آباد اور میر پور کے اضلاع میں کووڈ-19 کے متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور متعلقہ حکام کو لاک ڈاؤن کی ہدایت کی تھی۔

حکام کی جانب سے مقامی انتظامیہ کو لاک ڈاؤن سے متعلق مؤثر اور جماع تجاویز دو روز میں جمع کرانے کی ہدایات دی گئی تھیں۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے کے اوائل میں ہی نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) نے بڑے پیمانے پر عوامی اجتماعات پر پابندی تجویز کرتے ہوئے ملک میں کووڈ-19 کی کیسز کی شرح پر نئی گائیڈ لائنز جاری کی تھیں۔