وزیراعظم کا مہنگائی میں کمی لانے کا اعلان، مگر یہ ہو گا کیسے؟

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر ملک میں مہنگائی پر قابو پانے کے حوالے سے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے تمام ریاستی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے جلد اقدامات اٹھانے کا کہا۔
وزیراعظم عمران خان نے جمعے کے روز ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’پیر سے شروع ہونے والے آئندہ ہفتے ہماری حکومت اشیائے خور و نوش سستی کرنے کے لیے تمام ریاستی وسائل بروئے کار لائے گی۔‘
پاکستان میں مہنگائی میں کتنا اضافہ ہوا؟
ملکی معیشت ’بہتری کی جانب گامزن‘؟

مہنگائی کی وجوہات کا جائزہ لے رہے ہیں: عمران خان
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت پہلے ہی مہنگائی کےعوامل کا جائزہ لیتے ہوئے تعین کر رہی ہیے کہ آیا رسد میں واقعی کمی ہے، یا پھر مافیا کی جانب سے ذخیرہ اندوزی و سمگلنگ مہنگائی کا سبب ہیں۔
انھوں نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ آیا ’دالوں اور پام آئل وغیرہ کی عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی میں اضافے کی وجہ ہیں۔ بہرحال آئندہ ہفتے سے ہم اپنی حکمت عملی نافذ کریں گے اور اداروں سمیت تمام ریاستی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کا آغاز کریں گے۔‘
معاشی ماہرین کی رائے میں ملک میں موجودہ مہنگائی کی وجہ طلب و رسد میں عدم توازن نہیں بلکہ گورننس کا کمزور نظام ہے۔
معیشت کے ماہر ڈاکٹر ساجد امین کہتے ہیں کہ ’گندم کا ہدف پورا ہونے کے باوجود گندم باہر سے منگوانا پڑ رہی ہے۔ ٹماٹر مارکیٹ میں وافر مقدار میں موجود ہے لیکن مہنگا ہے۔ چینی برآمد نہیں ہو رہی لیکن قیمت سو روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ کمزور انتظامی مشینری ہے جو عوامی مفاد کا تحفظ نہیں کر رہی۔‘