مسلم لیگ ن میں آنے والے بھی لوٹے ہیں؟‘

سیاستدانوں کی جانب سے ایک دوسرے کو لوٹا کہنا کوئی نئی بات نہیں، پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے کے لیے لوٹے کی اصطلاح عام استعمال کی جاتی ہے۔
ویسے تو یہ سلسلہ صرف بیان بازی کی حد تک ہی محدود تھا مگر کچھ سال پہلے مسلم لیگ ق کی رہنما ثمینہ خاور حیات اس وقت خبروں کی زینت بنیں جب ایک ٹاک شو میں انہوں نے لوٹا میز پر گھما کر بتایا تھا کہ کیسے ان لوٹوں کو اسمبلی میں ’ٹھاہ‘ کرنا ہے۔

فیصل واوڈا فوجی بوٹ پروگرام میں لے آئے

ٹاک شوز میں کبھی لوٹا، کبھی بوٹ

بُزدار سے ملاقات, پانچ ارکان اسمبلی ن لیگ سے فارغ
اب کی بار مسلم لیگ ن کے ارکان نے باغی رکن کے سر پر لوٹا سجا کر ایک نئی روایت قائم کر دی ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ جمعے کو جب مسلم لیگ ن سے نکالے گئے رکن جلیل شرقپوری نے صوبائی اسمبلی اجلاس میں جانے کی کوشش کی تو لیگی اراکین نے ان کا گھیراؤ کر کے ’لوٹا لوٹا‘ کے نعرے لگانا شروع کر دیے اور انہیں اپوزیشن چیمبر سے باہر نکال دیا۔
لیگی ارکان نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک جذباتی رکن نے جلیل شرقپوری کے سر پر پلاسٹک کا لوٹا بھی رکھ دیا۔
رکن پنجاب اسمبلی میاں جلیل احمد شرقپوری نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت بیانیے کی مخالفت کی تھی جس پر دیگر ارکان ان سے بدظن ہو گئے تھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کرنے پر ان کی پارٹی رکنیت بھی ختم کر دی گئی تھی۔
جلیل شرقپوری کے سر پر لوٹا رکھنے پر سوشل میڈیا صارفین طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے حمایتی صارفین کا خیال ہے کہ پارٹی سے بغاوت کرنے والے اسی رویے کے مستحق ہیں جبکہ کچھ صارفین سمجھتے ہیں کہ اختلاف اپنی جگہ مگر بزرگ سیاستدان کی تضحیک قابل مذمت ہے۔