کھانے کی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے کے باعث مہنگائی میں 1.24 فیصد اضافہ

ملک میں مہنگائی میں مسلسل چھٹے ہفتے اضافہ ریکارڈ کیا گیا اورایک ہفتے میں مہنگائی 1.24 فیصد بڑھ گئی۔

وفاقی ادارہ شماریات کی مہنگائی پر ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق حساس قیمت کا اشاریہ (ایس پی آئی) ملک کے 17 شہروں کی 50 مارکیٹوں سے 51 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی بنیاد پر شمار کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق ماہانہ 17 ہزار 732 روپے سے کم کمانے والے آمدن گروپ کے لیے گزشتہ ایک ہفتے میں مہنگائی 1.56 فیصد بڑھی، جبکہ 44 ہزار 175 سے زائد کمانے والے گروپ کے لیے افراط زر میں 1.08 فیصد اضافہ ہوا۔
جن اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں ٹماٹر کی قیمت میں 16.39 فیصد، پیاز میں 12.78 فیصد، انڈوں میں 10.78 فیصد، چکن میں 5.34 فیصد، آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 2.78 فیصد، آلو میں 2.64 فیصد، دال مونگ میں 1.21 فیصد اور چینی کی قیمت میں 1.03 فیصد اضافہ شامل ہے۔

گزشتہ ایک ہفتے میں کھانے پینے کی اشیا کے علاوہ دیگر اشیا کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ایک ہفتے میں جن اشیا کی قیمتوں میں کمی آئی ان میں کیلے کی قیمت میں 2.17 فیصد، دال ماش میں 0.19 فیصد اور گُڑ میں 0.04 فیصد کمی شامل ہے۔

واضح رہے کہ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ستمبر میں صارف اشاریہ انڈیکس (سی پی آئی) مہنگائی میں امید سے زیادہ 9.04 فیصد اضافہ ہوا تھا۔

ستمبر میں مہنگائی کے حوالے سے عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے اپنے تجزیے میں کہا تھا کہ مون سون کے سیزن کے بعد سپلائی میں بہتری اور کورونا وائرس لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد رسد بحال ہونے کے بعد کھانے کی اشیا کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے کچھ عرصے تک اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اے ایچ ایل کے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد مہنگائی کے توانائی کے جزو پر دباؤ میں کمی آئے گی۔