وفاق نے دو جزیروں پر سندھ حکومت کے دعوے کو مسترد کردیا

کراچی: بنڈل اور بدو جڑواں جزیروں پر صدر مملکت کے آرڈیننس کے ذریعے قبضے کے اسلام آباد کے اقدام پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سندھ حکومت کے درمیان نیا تنازع ختم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا جہاں وفاقی کابینہ کے ایک اہم رکن نے صوبائی حکومت پر اس معاملے پر ’سیاسی کھیل‘ کھیلنے کا الزام عائد کردیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان ہر وہ کام کریں گے جس سے ملک اور اس کی معیشت اور عوام کو فائدہ پہنچے۔

کراچی میں میڈیا سے وابستہ افراد اور پی ٹی آئی رہنماؤں سے ملاقات میں مصروف دن گزارنے والے شبلی فراز نے اس اقدام کو ’غیر آئینی‘ قرار دینے والی سندھ حکومت کے خدشات کو دور کردیا۔

انہوں نے وفاقی حکومت کی طرف سے کسی بھی ’غیر آئینی‘ اقدام کے امکان کو مسترد کیا اور پیپلز پارٹی کی حکومت پر کڑی تنقید کی۔تحریر جاری ہے‎

اپنی دن بھر کی مصروفیات کے پہلے مرحلے میں وفاقی وزیر قائداعظم کے مزار پر اور قائد اعظم کی قبر پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔

بعد ازاں انہوں نے مختصر وقت کے لیے میڈیا کے سوالات کے جواب بھی دیے۔

انہوں نے تفصیلات میں جائے بغیر جڑواں جزیروں کے بارے میں سندھ حکومت کے اس دعوے کو واضح طور پر مسترد کردیا اور پیش گوئی کی کہ حکومت مخالف تحریک کا جو نو تشکیل شدہ اپوزیشن اتحاد رواں ماہ شروع ہونے جارہا ہے وہ ناکام ہوگا۔

انہوں نے کراچی کے ساحل سے قریب جزیروں پر حکومت سندھ کے دعوے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’وہ در حقیقت اس (جڑواں جزیروں) کے معاملے پر سیاست کر رہے ہیں، پی ٹی آئی کی حکومت کوئی بھی غیر آئینی اقدام نہیں کرتی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے وزیر برائے بحری امور علی زیدی پہلے ہی معاملات واضح طور پر بیان کر چکے ہیں، وزیر اعظم اور ان کی حکومت اس ملک میں معاشی خوشحالی لانا چاہتی ہے‘۔

انہو نے کہا کہ ’اگر اس منصوبے کی وجہ سے معیشت بحال ہوجائے تو کس کو فائدہ ہوگا؟، یقینا کراچی کراچی اور سندھ کے عوام کو، پھر وہ (سندھ حکومت) اس کی مخالفت کیوں کررہے ہیں؟ یہ سب سیاست ہے، لیکن (وفاقی) حکومت نے معاشی اور کاروباری ترقی کے منصوبے شروع کرنے کا عزم کیا ہے اور وہ اس پالیسی پر عمل پیرا ہوگی‘۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کی حکومت مخالف مہم چند رہنماؤں کی بدعنوانی کو چھپانے کی کوشش ہے۔

انہوں نے پیش گوئی کی کہ اسے کامیابی نہیں ملے گی کیونکہ پاکستانی عوام نے متعدد مرتبہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو آزما چکی ہے اور اب وہ ان کے پوشیدہ ایجنڈے کو بھی سمجھ چکے ہیں۔

انہوں نے اپوزیشن کے اس اقدام پر حکومتی رد عمل کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’ملکی خزانے کو لوٹنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے عوام نے تحریک انصاف کا انتخاب کیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ‘حزب اختلاف کی جماعتوں کے پاس حکومت مخالف تحریک چلانے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے، حقیقت میں اس کا مقصد ان کی کرپٹ قیادت کو احتساب سے بچانا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عوامی جلسوں کے پیچھے حزب اختلاف کے رہنماؤں کا بنیادی مقصد اپنے ذاتی مفادات کو محفوظ بنانا ہے، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما دراصل اپنی بدعنوانی چھپانے کے لیے مختلف حربے استعمال کررہے ہیں‘۔