جب کسی پے الزام لگانے کیلئے کچھ نہ بچے تویہ لوگ ۔۔۔ن لیگی رہنما حکومت پر برس پڑے

مسلم لیگ (ن) کے صدر شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیے جانے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب کسی پر الزام لگانے کے لیے کچھ نہ رہ جائے تو کہا جاتا ہے کہ یہ بغاوت کررہا ہے۔

اسلام آباد میں احسن اقبال اور مریم اورنگزیب کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ رات 2 بجے لاہور کے شاہدرہ تھانے میں مقدمہ درج ہوا جو بدر رشید نامی شخص نے درج کروایا جن کا کوئی پیشہ نہیں ہے۔

شاہد خاقان نے بتایا کہ مذکورہ شخص کے مطابق پاکستان کے دو سابق وزرائے اعظم، آزاد کشمیر کے موجودہ وزیراعظم، سینیٹ کے قائد حزب اختلاف، قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر، سابق ڈپٹی اسپیکر، 2 سابق وزرائے دفاع،سابق وزیر خارجہ، سابق وزیر خزانہ، خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلٰی اور گورنر،16 سے زائد سابق وفاقی وزرا اور پاک فوج کے 3 ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرلز بغاوت کے مرتکب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ بدر رشید نے ایف آئی آر کی درخواست کی جس پر ایس ایچ او نے بڑی خوبصوری سے مقدمہ درج کیا۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جیسی افسانوی کتابیں رہی ہیں یہ مقدمہ ان میں ایک بدنما داغ کا اضافہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقدمے کے لحاظ سے یہ بغاوت راولپنڈی سازش،اگرتلہ سازش کیس سے بھی کئی گنا بڑی ہے اور اس سے قبل پاکستان میں جن لوگوں پر بغاوت کے الزامات لگائے گئے ان میں اس کا منفرد مقام ہے کہ وزیراعظم،وفاقی وزرا، سابق جرنیل،اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر،وزیراعلیٰ گورنر یعنی کہ جو لوگ پاکستان کو چلاتے تھے آج سب بغاوت کے مرتکب ہوگئے۔

حکومت کے طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چونکہ ملک کے مسائل حل ہوگئے ہیں اس لیے 4 روز سے وفاقی وزرا یہی راگ الاپ رہے ہیں، جن سے میری گزارش ہے کہ اگر تم میں ہمت ہے تو بدر رشید کا سہارا نہ لو آؤ اپنا نام پرچے میں درج کراؤ تا کہ عوام کو تمہاری حقیقت کا علم ہوسکے۔

انہوں نے کہا میں کھل کر کہتا ہوں کہ اگر آئین کی بات کرنا، انتخابات میں دھاندلی کے خلاف، مہنگائی کے خلاف ،کرپٹ حکومت کو گھر بھیجنے ، ملک میں بے روزگاری کی بات کرنا، معیشت کی تباہی، سی پیک کی بندش ، کشمیر کے سودے، ملک میں تفریق ڈالنے، ملک کے خلاف سازش پر بات کرنا بغاوت ہے تو ہر روز بغاوت ہوگی۔

شاہد خاقان عباسی کا مزید کہنا تھا کہ ہماری بات بڑی واضح ہے سیاسی میدان میں مقابلہ کرنا ہے تو آؤ، حکومتیں اپنی کارکردگی سے بات کرتی ہیں گالیوں یا الزامات سے نہیں،انگریزی کے محاورے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب کسی پر الزام لگانے کے لیے کچھ نہ رہ جائے تو کہا جاتا ہے کہ یہ بغاوت کررہا ہے۔