پاکستان کا اقوام متحدہ کے اصولوں کو برقرار رکھنے کیلئے کام کرنے کا عزم !!! بڑا موٗقف

اسلام آباد: پاکستان نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں اس کی فعال اور نمایاں شرکت اور اتحادیوں سے میٹنگز اقوامِ متحدہ کے مقاصد اور اصولوں کے لیے اس کی حمایت اور عزم کا اظہار ہے۔

ایک بیان میں ترجمان دفتر خارجہ زاہد چوہدری نے کہا کہ پاکستان دیگر رکن ممالک کے تعاون سے اس عمل میں بھرپور طریقے سے حصہ لینے کی کوششیں جاری رکھے گا تا کہ دنیا کو ایسا بنایا جائے کہ جہاں تنازعات ختم ہوجائیں اور امن کے حالات میں سب کے لیے مساوی خوشحالی کی کوشش کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ جیسا کہ وزیر اعظم عمران خان نے 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا کہ اقوام متحدہ کو موجودہ دور کے چیلنجز کا بھر پور ردعمل دینے والا ادارہ ہونا چاہیے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان 21 ستمبر سے یکم اکتوبر 2020 تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے افتتاحی تقریبات میں اعلیٰ سطح پر شریک ہوا۔تحریر جاری ہے‎

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ کی تقریبات کی وجہ سے اس سال اس اجلاس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے، کووِڈ 19 کے باعث عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے تقریبات کا انعقاد ورچوئل طریقے سے کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان نے کثیر القومیت کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کیا اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا احساس کرنے اور دور حاضر کے عالمی اور علاقائی چیلنجز کے بارے میں پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم نے چار دیگر اعلیٰ سطح کی سائیڈ لائن تقاریب میں کلیدی مقررین میں سے ایک کے طور پر بھی شرکت کی جن میں غربت کے خاتمے، غیر قانونی مالیاتی بہاؤ، ترقی کے لیے فنانسنگ اور حیاتیاتی تنوع سمٹ شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی متعدد سرگرمیوں میں حصہ لیا جن میں اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ اور خواتین کے بارے میں چوتھی عالمی کانفرنس کی 25 ویں سالگرہ کے سلسلے میں منعقدہ جنرل اسمبلی کے اعلی سطح کے اجلاس شامل ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے ساؤتھ ایشین ایسوسی ایشن فار ریجنل کووآپریشن (سارک) کے وزارتی اجلاس، اتفاق رائے کے لیے اتحاد گروپ اور اقوام متحدہ کے تہذیبوں کے اتحاد سے متعلق اجلاس میں بھی شرکت کی۔

وزیر اعظم نے بھارتی غیرقانونی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر روشنی ڈالی اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازع کشمیر کے پرامن حل کا مطالبہ کیا۔