سپریم کورٹ کے جج نے معزرت کر لی ۔۔۔

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے جنگ گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایگزیکٹو میر شکیل الرحمٰن کی جانب سے دائر ضمانت بعد از گرفتاری کی سماعت سے خود کو الگ کرلیا۔

مقدمہ کے آغاز پر ہی جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر اس معاملے کو نہیں سن سکیں گے اور وہ خود کو بینچ سے الگ کرتے ہیں۔

تاہم جسٹس عمر عطا نے معاملہ اس وقت آئندہ سماعت کے لیے مقرر کرنے کی درخواست کے ساتھ چیف جسٹس گلزار احمد کو بھیج دیا جب وکیل خواجہ حارث نے درخواست کی کہ اس کیس کو جلد از جلد سنا جائے۔

واضح رہے کہ میڈیا ٹائیکون 12 مارچ 2020 سے قید میں ہیں اور انہوں نے سپریم کورٹ میں لاہور ہائیکورٹ کے 8 جولائی کے ضمانت مسترد ہونے کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔

مذکورہ درخواست میں قومی احتساب بیورو (نیب)، ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور اور انویسٹی گیشن افسر محمد عابد حسین کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ پلاٹس کے استثنیٰ (54 کنال زمین کی خریداری میں قوائد کی خلاف ورزی) کے 34 سال پرانے معاملے کو دوبارہ کھولا جارہا ہے جس کے بارے میں نہ تو لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) یا کسی دیگر اتھارٹی یا زمین کے سابق مالک نے کوئی شکایت کی یا قانون سے بالاتر ہونے کا معاملہ اٹھایا۔

عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ این اے او 1999 کے تحت درخواست گزار کے خلاف کارروائی کا آغاز اور اس میں تسلسل میں بدنیتی کا اندازہ اس سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ 12 مارچ 2020 کو درخواست گزار کی گرفتاری پر اسلام آباد میں چیئرمین نیب اور لاہور میں نیب کے حکام نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیا۔

واضح رہے کہ 12 مارچ کو میر شکیل الرحمٰن کو نیب کے لاہور دفتر میں طلبی کے نوٹس کے ساتھ دیے گئے سوالات کے جوابات جمع کروانے کے لیے بلایا تھا اور پھر اسی موقع پر ان کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ نیب کی جانب سے درخواست گزار کی گرفتاری کے لیے بنیاد بنانے کے لیے لگایا گیا ہر الزام بدنیتی پر مبنی، من گھڑت اور جھوٹا ہے جبکہ یہ مذموم مقاصد اور قانون سے ماورا ہے۔

میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کے بعد انہیں اگلے ہی روز لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں نیب نے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جس میں وقت کے ساتھ ساتھ 45 دن تک کی توسیع ہوئی، بعد ازاں 28 اپریل کو ایک حکم نامے کے ذریعے انہیں بالآخر عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا تھا۔

ان کی گرفتاری کے بعد درخوست گزار اور ان کی اہلیہ نے 2 الگ الگ درخواستیں دائر کیںتھیں جس میں گرفتاری اور ریمانڈ آرڈرز کو چیلنج کیا تھا لیکن 7 اپریل کو ہائیکورٹ نے ‘میرٹ پر پورا نہ اترنے اور نامکمل’ ہونے کا کہتے ہوئے درخواستوں کو مسترد کردیا گیا تھا۔

علاوہ ازیں نیب نے درخواست گزار اور 3 شریک ملزمان میاں نواز شریف، جو 1986 میں وزیراعلیٰ پنجاب اور ایل ڈی اے کے چیئرمین تھے، ہمایوں فیض رسول جو اس وقت ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل تھے اور میاں بشیر احمد جو اس وقت ایل ڈی اے لینڈ ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر تھے ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہے۔

عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ ہائی کورٹ یہ دیکھنے میں ناکام رہا کہ فریقین کی کارروائی شکایت کی اچھے سے جانچ پڑتال کرنے، اس کے جوابات حاصل کرنے اور پھر اسے انکوائری اور دیگر میں تبدیل کرنے کے بجائے درخواست گزار کو ڈرانے اور ہراساں کرنے کے مذموم مقاصد پر تھی تاکہ دوسروں کو لائن میں رکھنے کے لیے اسے پوری میڈیا انڈسٹری کے لیے مثال بنایا جائے۔