سپریم کورٹ: سنتھیا رچی کیس میں ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف رحمٰن ملک کی اپیل مسترد

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سنتھیا رچی سے متعلق کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رحمٰن ملک کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرا رکھا۔

یکم ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنتھیا رچی کی جانب سے مبینہ ریپ پر رحمٰن ملک کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر ایڈیشنل ڈسٹرک اینڈ سیشن جج ناصر جاوید رانا کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کیس پر نظر ثانی کا حکم دیا تھا۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ خان کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی حمایت پر معاملہ دوبارہ جسٹس آف پیس کو بھجوانے کا فیصلہ کیا۔

فیصلہ سننے کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سنتھیا رچی نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم میں انصاف کیا ہے اس کا فیصلہ ان افراد کے لیے واضح پیغام ہے جو عورت کی آواز دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ 28 ستمبر کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹسز جاری اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو طلب کیا تھا، ایڈووکیٹ سیف الملوک نے سنتھیا رچی کی نمائندگی کی۔

اس سے قبل ایڈیشنل اینڈ سیشن جج نے’اپنے جسٹس آف پیس کے دائرہ اختیار میں’ کوڈ آف کرمنل پروسیجر 1898 (سی آر پی سی) کی دفعہ 22-اے، 22-بی کے تحت سنتھیا رچی کی درخواست مسترد کردی تھی جس میں پولیس کو رحمٰن ملک کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی تھی۔

تاہم یکم ستمبر کو آئی ایچ سی نے ریپ الزام پر ایف آئی آر درج کرنے کا معاملہ نظرِ ثانی کے لیے دوبارہ جسٹس آف پیس بھجوادیا تھا۔

رحمٰن ملک کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل سردار لطیف کھوسہ نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس آف پیس کو اس کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی ہدایات، الزامات لگا کر انگلیاں اٹھانے کے رجحان کی حوصلہ افزائی کرے گا پھر چاہے وہ وزیراعظم ہو، چیف جسٹس یا کوئی بھی اہم شخصیت ہو۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ ہائی کورٹ اس بات کی تعریف کرنے میں ناکام رہی کہ واقعے سے متعلق کوئی میڈیکو لیگ رپورٹ، کیمیائی تجزیے، ڈی این سے یا کوئی گواہ موجود نہیں، درخواست گزار نے کہا کہ جسٹس آف پیس اندراج مقدمہ کی درخواست کو مسترد کرنے پر حق بجانب تھے۔

سنتھیا رچی تنازع
خیال رہے کہ امریکی بلاگر سنتھیا رچی کافی عرصے سے پاکستان میں مقیم ہیں لیکن چند ماہ قبل سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے حوالے سے ایک ’نامناسب‘ ٹوئٹ کے بعد ان کے پیپلز پارٹی سے اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے۔

پی پی پی رہنماؤں کی جانب سے ان کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا جہاں سے حکام کو امریکی بلاگر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم جاری ہوا، انہوں نے اس کارروائی کو روکنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تاہم وہ مسترد ہوگئی۔

دوسرا اور سب سے اہم معاملہ سنتھیا رچی کی جانب سے سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک پر ریپ اور پی پی پی کے دو دیگر رہنماؤں پر دست درازی کرنے کا الزام عائد کیا جانا تھا۔

مذکورہ الزامات پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور رحمٰن ملک کی جانب سے امریکی بلاگر کو ہتک عزت کے نوٹسز بھجوائے گئے تھے۔