ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزی، بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاج

پاکستان نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی پر بھارتی ناظم الامور کو طلب کرتے ہوئے سخت احتجاج ریکارڈ کرادیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارتی فورسز کی جانب سے 28 ستمبر کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر کی گئی جنگ بندی کی خلاف ورزی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی شہادت اور زخمیوں پر احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے بھارتی ناظم الامور گورو آہووالیا کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا۔

بیان کے مطابق بھارت کی جانب سے ایل او سی کے تندر سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 15 سالہ نوجوان ولید ولد محمد فرید شہید ہوگیا تھا جبکہ وادی سونا اور کارتان کے رہائشی 25 سالہ مصباح بیگم، 45 سالہ ظہیر عباس، 80 سالہ قاسم سائیں، 26 سالہ سلیمان شدید زخمی ہوگئے تھے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کے ساتھ بھارتی قابض فورسز آرٹلری فائر، مارٹر اور خودکار ہتھیاروں سے مسلسل شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ رواں سال بھارت نے اب تک 2 ہزار 387 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جس کے نتیجے میں 19 شہادتیں ہوئیں جبکہ 191 بے گناہ شہری زخمی ہوگئے۔

دفتر خارجہ نے ان اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات واضح طور پر 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور انسانی اقدار اور پیشہ ورانہ فوجی قواعد کے بھی خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت بین الاقوامی قانون کی خلاف وزی کرتے ہوئے ایل او سی کے اطراف میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری میں کشیدگی کو ہوا دے کر بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی گھمبیر صورت حال سے دنیا کی توجہ نہیں ہٹا سکتا۔

بھارت سے 2003 کے معاہدے کی پاسداری کا مطالبہ کرتے ہوئے دفتر خارجہ نے کہا کہ ان واقعات کی تفتیش کرکے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر امن کو برقرار رکھا جائے۔

دفتر خارجہ نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کردار ادا کرنے کی اجازت دے۔

خیال رہے کہ بھارتی فورسز نے ایل او سی کے ساتھ مختلف سیکٹرز میں جنگ بندی کی خلاف وزری کرتے ہوئے بلا اشتعال فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ایک نوجوان شہید ہوگیا تھا جبکہ فائرنگ کے اس تبادلے کے دوران پاک فوج کا ایک سپاہی بھی شہید ہوا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بتایا تھا کہ پاک فوج نے بھارتی اشتعال انگیزی کا مؤثر جواب دیا، جس کے نتیجے میں بھارتی پوسٹس سمیت جانی و مالی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

علاوہ ازیں ضلع بھمبر کے ایس پی نے بتایا تھا کہ سونا میں بروہ گاؤں کے قریب ایک بستی میں ایک کالج کا طالبعلم اس وقت زندگی گنوا بیٹھا جب ایک مارٹر شیل کا خول اس کے قریب آگرا اور اس کے جسم کو چھلنی کردیا۔

واضح رہے کہ 27 ستمبر کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ سے پاک فوج کا جوان شہید ہوگیا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا تھا کہ بھارتی فوج نے ایل او سی کے کوٹ کوٹیرا سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی، تاہم پاک فوج نے بھارتی اشتعال انگیزی کا مؤثر جواب دیا تھا اور بھارتی فوجی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا تھا جس سے اسے جانی و مالی نقصان ہوا تھا۔

اس سے قبل 23 ستمبر کو بھی بھارت نے ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلااشتعال شیلنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں پاک فوج کے 2 جوان شہید ہو گئے تھے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر دیوا سیکٹر میں بھارتی فوج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس پر پاک فوج نے انہیں منہ توڑ جواب دیتے ہوئے فائرنگ شروع کرنے والی چوکیوں کو نشانہ بنایا تھا۔