اولمپکس کے اخراجات میں کمی کیلئے لاگت میں کٹوتی کا فیصلہ

آئندہ سال ہونے والے ٹوکیو اولمپکس 2020 سے قبل ہونے والے نقصان کا ازالہ کیلئے اخراجات میں کمی اور وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اولمپکس کی سادہ افتتاحی تقریب منعقد ہو گی۔

منتظمین نے اخراجات پر قابو پانے کے لیے ایک منصوبہ بنایا ہے جس میں بینرز، میسکوٹ اور آتش بازی سمیت 50 مختلف طریقوں سے لاگت میں کمی کی جائے گی۔انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے نائب صدر جان کوٹس نے کہا کہ پیچیدگیوں اور التوا کے سبب آنے والی اضافی لاگت کے ساتھ ساتھ ایونٹ کے محفوظ طریقے سے انعقاد پر طاری بے یقینی کے باوجود منسوخی کا آپشن زیر غور نہیں۔

انہوں نے منتظمین اور ٹوکیو میں اولمپک حکام سے ملاقات کے بعد ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے لیے یہ کہنا آسان ہو گا کہ یہ ممکن نہیں لیکن ہم سب کا یہ خیال ہے کہ یہ ممکن ہے، ایسا ہونا ہی چاہیے کیونکہ ہم ایک نسل کے ایتھلیٹس کو ایسے نہیں چھوڑ سکتے۔

حکام کی جانب جاری دستاویز کے مطابق پس پردہ یا ضمنی وفود کے حجم کو 10 سے 15 فیصد کم کرنے کے ساتھ ساتھ مراعات میں بھی کمی کی جائے گی البتہ ایتھلیٹس کی تعداد کم نہیں کی جائے گی۔

تاہم آفیشلز، میڈیا اور دیگر افراد کو اعزازی ٹکٹوں کی تعداد افتتاحی اور اختتامی تقریب کے لیے کم کردی جائے گی جبکہ ان تقاریب میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جائیں گی۔

ٹوکیو آرگنائزنگ کمیٹی کے صدر یوسیرو موری نے کہا کہ جو ابتدائی طور پر تجویز کیا گیا تھا، اس میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی جا رہی ہیں، ہو سکتا ہے کہ یہ سب بہت سادہ انداز میں انجام دیا جائے لیکن مجھے امید ہے کہ یہ ایسا ہو گا کہ جس سے ہم سب کو خوشی ہو گی۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے عالمی سطح پر پھیلاؤ کے سبب رواں سال شیڈول ٹوکیو اولمپکس کو ایک سال کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا اور اب یہ ایونٹ 23 جولائی 2021 سے منعقد ہو گا۔

اس ایونٹ کے لیے اس 12.6ارب ڈالر کا بجٹ رکھا گیا ہے لیکن اس میں اضافہ یقنی ہے کیونکہ مقامات اور ٹرانسپورٹ کو دوبارہ بُک کیا جائے گا اور انہی چیزوں کو دیکھتے ہوئے ہر ممکن حد تک لاگت میں کمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ہر کھیل کو متعارف کرانے کی تقاریب بھی کم سے کم معیار پر منعقد کی جائے گی جبکہ اولپکس پیرالمپکس میں کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہنے کی تقریب کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے۔

جان کوٹس نے کہا کہ اب ہم کورونا وائرس کے بعد کی ایک نئی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں جس میں ہم نئے گیمز کی روایت رقم کرنے جا رہے ہیں جسے دنیا ‘ٹوکیو ماڈل’ کے طور پر یاد رکھے گی۔

جاپان میں اولمپکس کے حوالے سے جوش و خروش ماند پڑ چکا ہے اور کورونا وائرس کے بعد حال ہی میں کرائے گئے ایک پول میں ہر چار میں سے صرف ایک فرد نے گیمز کے انعقاد کی حمایت کی۔