اپوزیشن کا 11 جماعتی اتحاد کو رسمی شکل دینے کا فیصلہ

اسلام آباد: اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے 11 جماعتوں کے نوتشکل شدہ اتحاد کو ایک ‘رسمی ساختی شکل’ (فارمل اسٹرکچورل شیپ) دینے کا فیصلہ کرلیا۔

خیال رہے کہ 20 ستمبر 2020 کو اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں اس اتحاد کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا نام دیا تھا اور قومی، صوبائی اور ضلعی سطح پر اس کے چیپٹرز تشکیل دے کر منظم حکومت مخالف مہم شروع کی جانی ہے۔

یہ بات پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے سیکریٹری جنرل نیار بخاری نے رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں بتائی۔

واضح رہے کہ اے پی سی کے بعد رہبر کمیٹی کا یہ پہلا اجلاس تھا۔

نیر بخاری کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے عہدیداروں کو ہر سطح پر نامزد کرنے کا فیصلہ جماعتوں کی اعلیٰ قیادت پر چھوڑ دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی کے اراکین پارٹی سربراہان سے درخواست کریں گے کہ وہ اس سلسلے میں جلد از جلد فیصلہ کریں۔

سیکریٹری جنرل پی پی پی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کی زیرقیادت ہونے والی اے پی سی میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اعلان کردہ 26 نکاتی اعلامیے کی روشنی میں رہبر کمیٹی کی ملاقات ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں لیے جانے والے تمام فیصلوں پر عمل درآمد کیا جائے گا اور اپوزیشن جماعتیں جلد ہی ملک گیر جلسوں کے شیڈول کا اعلان کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جنوری 2021 میں اسلام آباد کی طرف ایک طویل لانگ مارچ کرنے کا ارداہ رکھتی ہے، جیسا کہ اے پی سی میں اعلان کیا گیا تھا، مزید یہ کہ وہ (اپوزیشن) حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے پرعزم ہے۔

واضح رہے کہ اے پی سی کے بعد چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے قیام کا خیرمقدم کیا تھا اور اسے جمہوریت کی بحالی کیلئے اتحاد (اے آر ڈی) اور جمہوریت کی بحالی کے لیے تحریک (ایم آر ڈی) سے تشبیہ دی تھی، ماضی میں نوابزادہ نصراللہ خان کی قیادت میں بنے والے یہ 2 بڑے اپوزیشن اتحاد جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کے خلاف تحریک شروع کرنے کے لیے تھے۔

خیال رہے کہ حکومت مخالف حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے اپوزیشن کی مختلف جماعتوں کی بیٹھک 20 ستمبر کو اسلام آباد کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ہوئی تھی۔

پیپلزپارٹی کی زیرقیادت ہونے والی اس اے پی سی میں سابق صدر آصف علی زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کیا تھا، نواز شریف کی جانب سے اپنے خطاب میں حکومت اور اداروں پر سخت تنقید کی گئی تھی۔

بعد ازاں اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔مزید تازہ ترین خبریں