عالمی بینک سندھ میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے لیے 20 کروڑ ڈالر قرض دے گا

اسلام آباد: عالمی بینک سندھ کے قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مستحکم کرنے اور منتخب علاقوں میں خشک سالی اور سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بارش کے پانی کے چھوٹے ریچارج ڈیمز کی تعمیر کے لییے 20 کروڑ ڈالر کا قرض دے گا۔

‘سندھ ریسیلیئنز‘ پروجیکٹ کے تحت چھوٹے ڈیمز کے لیے مقامات کا انتخاب فزیبلٹی اسٹڈی پر مبنی ہوگا جو اس وقت زیر بحث ہے۔

یہ ڈیم دادو، ٹھٹھہ، کراچی، جامشورو اور تھرپارکر اضلاع میں تعمیر کیے جائیں گے۔

جن علاقوں میں ڈیم تعمیر ہوں گے وہاں پانی کی قلت کا سامنا ہے جبکہ چند ڈیم منصوبے ایک دوسرے کے قریب بھی ہوں گے۔

اس منصوبے کے تحت ایمرجنسی اور ریسکیو خدمات ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کراچی، حیدرآباد، سکھر، شہید بینظیر آباد، میرپورخاص اور لاڑکانہ میں چلائی جائیں گی۔

دریائے سندھ صوبے کا بنیادی آبی وسیلہ ہے، اس پر سندھ میں تین بڑے بیراج قائم ہیں جو سالانہ تقریبا 48 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) یا 59 بلین مکعب میٹر(بی سی ایم) پانی کو سندھ کی 14 اہم کینالوں کی طرف موڑتی ہیں۔

سندھ میں 80 فیصد سے زائد زمینوں پر زراعت کے لیے غیر موزوں پانی کا استعمال ہورہا ہے۔

سندھ میں خشک سالی کی صورتحال کے ساتھ ساتھ اریگیشن کے پانی کے مسائل کے ساتھ ساتھ جہاں بھی میٹھا پانی میسر ہے وہاں زمین پانی کے استحصال میں اضافہ ہوا ہے۔

زمین میں تازہ پانی زیادہ تر دریائے سندھ کے بائیں کنارے کے ساتھ ساتھ علاقوں اور دیگر علاقوں میں پایا جاتا ہے۔

درجہ حرارت اور بارش کی تبدیلیوں سے زندگی کے معیار پر پڑنے والے اثرات کے لحاظ سے سندھ ملک میں سب سے زیادہ ‘ہاٹ سپاٹ’ ہونے کی پیش گوئی کی جارہی ہے۔

پاکستان کے چار سب سے غیر محفوظ اضلاع سندھ میں ہی ہیں جن میں حیدرآباد، میرپورخاص، سکھر اور لاڑکانہ شامل ہیں۔ اس صوبے کو دنیا میں سب سے خطرناک ماحولیاتی چیلینجز کا سامنا ہے۔