ڈریپ کے سابق سی ای او کی عہدے پر بحالی کی درخواست مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ) کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) شیخ اختر حسین کی عہدے پر بحالی کی درخواست مسترد کردی اور موجودہ سی ای او عاصم رؤف کی تعیناتی کے خلاف بھی رولنگ دی۔

اسلام آباد ہائی کوررٹ کے جسٹس میناگل اورنگزیب نے سابق ڈریپ عہدیدار کی جانب سے عہدے پر بحالی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کی۔

عدالت کے حکم نامے میں کہا گیا کہ ‘افسر (عاصم رؤف) جنہیں 7 مارچ 2019 کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے ‘نگرانی کی بنیاد’ پر ڈریپ کا سی او او بنایا گیا تھا وہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے 20 مارچ 2020 کے او ایم میں متعین کردہ دائرہ کار سے بڑھ کر اپنے اختیارات اور افعال انجام نہیں دے سکتے۔

عدالت نےکہا کہ درخواست گزار شیخ اختر نے کولمبو اوپن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی جو سری لنجاب کے چارٹرڈ اداروں یا جامعات میں شامل نہیں اور نان چارٹرڈ یونیورسٹیز یا اداروں کی دی گئی ڈگریوں کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن تسلیم نہیں کرتا۔

کیس کے حقائق کے مطابق یکم فروری 2018 کو ڈریپ کے سابق سی ای او کے عہدے کی 3 سالہ مدت اختتام پذیر ہونے پر یہ عہدہ خالی ہوگیا تھا۔

اس عہدے پر تعیناتی کے خواہشمندوں کے لیے فارمیسی یا میڈیسن میں پوسٹ گریجویٹ ڈگری اور سرکاری شعبے میں فارماسوٹیکل، ریگولیٹری یا انتظامی امور میں 20 سال کا تجربہ ہونا ضروری ہے۔

اگر کوئی امیدوار سرکاری شعبے میں اس اہلیت کا حامل نہ ہو تو نجی شعبے میں مذکورہ قابلیت اور تجربہ رکھنے والا امیدوار بھی اہل ہوگا۔

وزارت صحت نے اس عہدے کے لیے اپلائی کرنے والے امیداروں کی اہلیت جانچنے کے لیے ایک 4 رکنی کمیٹی قائم کی تھی اور 12 میں 10 امیدوار شارٹ لسٹ کیے گئے تھے جو انٹرویو کمیٹی کے سامنے انٹرویو کے لیے پیش ہوئے۔

درخواست نے بھی تعیناتی کے اس مسابقتی عمل میں حصہ لیا اور سب سے زیادہ مارکس حاصل کیے جبکہ عاصم رؤف اس فہرست میں دوسرے نمبر پر تھے، چنانچہ وفاقی کابینہ نے 20 دسمبر 2018 کو درخواست گزار کو ڈریپ کا سی ای او لگانے کی منظوری دی۔

تاہم ان تعلیمی اسناد کی حقیقت کے خلاف دائر ایک شکایت پر شیخ اختر کو اس عہدے سے ہٹا کر عاصم رؤف کو اس پر تعینات کردیا گیا تھا۔

مذکورہ عمل کے خلاف سابق سی او نے عدالت سے رجوع کیا تھا جس کی سماعت میں جسٹس میناگل اورنگزیب نے کہا کہ درخواست گزار کو ایک نان چارٹرڈ یونیورسٹی کی جانب سے ڈگری لینے پر مارکس نہیں دینے چاہیئے تھے اور قرار دیا کہ انہیں اس عہدے سے ٹھیک ہٹایا گیا۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ نگرانی کے لیے تعینات کیے گئے افسر کو پالیسی فیصلے کرنے کا اختیار نہیں ہے، عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف ایک مجاز اتھارٹی ہی مالی اور انتظامی اختیارات کو استعمال کرسکتی ہے اور ایک نگران افسر ایسے اختیارات کو استعمال نہیں کرسکتا ہے۔