وزیراعظم نے کہا کہ وہ اور جنرل باجوہ ہر معاملہ بیٹھ کر طے کرتے ہیں، فواد چوہدری

وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے کہا کہ وہ اور جنرل باجوہ ہر معاملہ بیٹھ کر طے کرتے ہیں۔

وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والے پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں فواد چوہدری نے کہا کہ اجلاس میں وزیراعظم نے بتایا کہ وہ اور جنرل باجوہ ہر معاملہ بیٹھ کر طے کرتے ہیں، ڈی جی آئی ایس آئی کے معاملے پر بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا، ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے معاملات مکمل طور پر طے پاچکے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری جلد کردی جائے گی، فیصلہ اعتماد کی فضا میں ہوگا۔ ایک سوال پر فواد چوہدری نے کہا کہ وہ یہ نہیں بتا سکتے معاملہ 24، 48 یا 72 گھنٹوں میں حل ہوگا، ٹائم وزیراعظم آفس نے بتانا ہے، بتایا تو وہ بتاسکیں گے، ان کے پاس فی الحال صرف یہ اطلاع ہے کہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہوجائے گا۔

فواد چوہدری کے مطابق اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ تاریخ میں کبھی سول و عسکری تعلقات اتنے اچھے نہیں رہے جتنے آج ہیں، وزیراعظم نے کہا کہ اس کا کریڈٹ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کوجاتا ہے۔ فواد چوہدری کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ آرمی چیف نے ہمیشہ جمہوریت اورسول حکومت کو ادارہ جاتی سپورٹ دی، آج پاکستان کے عوام کو فوج کی عزت اور وقارعزیز ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمانی پارٹی میٹنگ میں ہمارا فوکس افغانستان پر تھا، وزیراعظم نے ممبران کو افغانستان کی صورتحال پر اعتماد میں لیا، پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس وقت ہمیں افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ انسانی ہمدردی کے جذبے سے افغانستان کے لیے امداد جاری رہنی چاہیے، ہم نے افغانستان کے لیے ویزا میں سہولت فراہم کی، تجارت کو بڑھایا، افغانستان میں استحکام کے لیے دنیا کو اپنی کوششیں کرنی چاہئیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہے، پیٹرول کی قیمت 40 ڈالر سے بڑھ کر 80 ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے، منہگائی سے نمٹنے کے لیے ہم نے نئی اکنامک پالیسی فریم کی ہے۔