نیب نے پنجاب کے وزیر علیم خان کے خلاف ریفرنس کی منظوری دے دی

لاہور: ملک کے احتساب ادارے نے جمعرات کو پاکستان تحریک انصاف کے طاقتور سینئر وزیر عبدالعلیم خان کے خلاف احتساب عدالت میں بدعنوانی کا ریفرنس داخل کرنے کی منظوری دے دی۔

ان پر آمدنی کے معلوم ذرائع سے زیادہ ایک ارب 40 کروڑ روپے کے اثاثے رکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کے ریجنل بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم کی زیر صدارت اجلاس میں ریفرنس کی منظوری دی گئی۔

ڈی جی نے بیورو کے دورے کے دوران نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال سے زبانی منظوری لی تھی۔

ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ (ای بی ایم) سے باضابطہ منظوری کے لیے اسے نیب ہیڈ کوارٹر بھیج دیا گیا ہے۔

علیم خان کے خلاف بدعنوانی کا ریفرنس دائر ہونے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کو وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کابینہ میں ان کو رکھنے کے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی ہوگی۔

واضح رہے کہ علیم خان کو گذشتہ سال فروری میں ذرائع آمدن سے زائد اثوثوں اور بدعنوانی کے دیگر الزامات کے تحت نیب نے گرفتار کیا تھا۔

انہوں نے گزشتہ سال مئی میں ضمانت حاصل کی تھی اور اس کے بعد انہیں صوبائی کابینہ کا حصہ بننے کی اجازت دیدی گئی تھی۔

خیال رہے کہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد پنجاب حکومت کی تشکیل کے وقت علیم خان کو وزیر اعلٰی کے عہدے کے لیے ایک مضبوط امیدوار سمجھا جاتا تھا۔

ریفرنس کے مجوزہ مسودے کے مطابق علیم خان، جن کے پاس فوڈ ڈپارٹمنٹ کا پورٹ فولیو بھی ہے، ملک میں اور بیرون ملک اپنے ایک ارب 40 کروڑ روپے کے اثاثوں کو پر وضاحت نہیں کرسکے۔

مسودے میں کہا گیا کہ ‘پاکستان اور بیرون ملک علیم خان کی متعدد املاک کی نشاندہی کی گئی ہے جس کے بارے میں وہ وضاحت دینے میں ناکام رہے کہ انہوں نے کس آمدنی کے ذرائع سے یہ حاصل کیا تھا، ان کے دو فرنٹ مین – عمر فاروق اور عمیر – پر پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی کے ریکارڈ سے چھیڑ چھاڑ کرنے اور لاکھوں روپے فائدہ پہنچانے کا الزام ہے’۔

علیم خان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنے رئیل اسٹیٹ کاروبار کے لیے متعدد کمپنیاں قائم کیں اور کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کی۔

مسودے میں کہا گیا کہ ‘2005-06 میں اندرون ملک اثاثوں کے علاوہ عبدالعلیم خان نے متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں آف شور کمپنیاں قائم کیں، آف شور کمپنیوں نے مہنگے ترین اثاثے حاصل کیے جو ان کی آمدنی کے معلوم وسائل سے بالاتر ہیں’۔