جام کمال نے پارٹی صدارت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ واپس لے لیا

کوئٹہ: وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے بلوچستان عوامی پارٹی کی صدارت سے مستعفی ہونےکا فیصلہ واپس لے لیا۔

جام کمال نے بلوچستان عوامی پارٹی کی صدارت سے مستعفی ہونےکا فیصلہ واپس لینے کا اعلان وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کے ذریعے کیا۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی، ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی اور جمہوری وطن پارٹی کے علاوہ بلوچستان عوامی پارٹی کے حمایتی اراکین اسمبلی بھی موجود تھے۔

جام کمال نے کہا کہ ان کے پاس وزارت اعلیٰ سے مستعفی ہونےکا بھی کوئی آپشن نہیں ہے اور وہ ہر طرح کے سیاسی بحران کا سامنا کریں گے، صوبے کی حکومت چل رہی ہے،کابینہ کا اجلاس بھی ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہناتھا کہ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے نمبر گیم سب کے سامنے آجائےگا، پی ٹی آئی کے ایک ممبر کے علاوہ تمام ممبران ہمارا ساتھ دے رہے ہیں جب کہ دیگر اتحادی بھی ہمارے ساتھ ہیں، ہم ہر طرح کے سیاسی بحران کا سامنا کریں گے اور 5 سال تک ہم معاملات چلاتے رہیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی 3 برسوں میں آصف زرداری سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی لہٰذا اس حوالے سے خبریں درست نہیں ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ میں نے پارٹی کے چیف آرگنائز جان جمالی سے کہا ہے کہ وہ تمام پارلیمانی اراکین کو بٹھائیں ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں۔