نیب نے کبھی کسی بے گناہ شخص کے خلاف کارروائی نہیں کی، چیئرمین نیب

قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین نے کہا ہے کہ نیب میں ہر کیس کا عمیق طریقے سے گہرائی کے ساتھ مکمل تجزیہ کیا جاتا ہے اور جب کیس بنتا ہے تب ہی ہم پیش قدمی کرتے ہیں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی معصوم شخص جس نے کچھ نہ کیا ہو، ہم نے اس کے خلاف کارروائی کی ہے۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ مضاربہ کیس ان کیسز میں سے تھا جو انتہائی مشکل ترین کیسز تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی سب سے بڑی ڈکیتی تھی یہ فراڈ یا دھوکہ دہی کا کیس نہیں تھا بلکہ اس میں مفتیان کا فرعونیت کا رویہ تھا انہوں نے جو دولت غلط طریقے سے اکٹھی کر کے سرمایہ کاری وہ وہاں سے کچھ حاصل نہ کرسکے یہ وہ انتقام تھا جو قدرت نے مفتیان سے لیا اور آج وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف ملکی بلکہ عدالتی تاریخ کا سب سے بڑا کیس تھا جس میں قید کی سزا کے علاوہ 10 ارب روپے کا جرمانہ کیا گیا جو عدالتی تاریخ میں ایک مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ جرمانے کی رقم حاصل کر کے ان افراد کو دی جائے جن سے رقم لوٹی گئی تھی لیکن بظاہر ان کی مالی حیثیت جرمانہ ادا کرنے کے قابل نہیں لگتی۔

ان کا کہنا تھا کہ قدرت کا نظام ہے آپ جو بوئیں گے وہی کاٹیں گے اور اگر دنیا میں غلط کام کریں گے تو اس کا صلہ پروردگار آپ کو دنیا میں ہی دے دے گا اور سزا و جزا کے لیے قیامت کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کی کامیابیوں کا کریڈٹ چیئرمین کو نہیں جاتا بلکہ نیب کے اراکان، افسران اور عملے کے علاوہ خواتین کو جاتا ہے البتہ میں نے صڑف ایک کوشش ضرور کی وہ یہ کہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو بلکہ سب کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے اور جس کے خلاف مقدمہ بنے اس کی کوئی نہ کوئی بنیاد ضرور ہے۔

چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ میں یہ بات دعوے سے کہ سکتا ہوں کہ ہوسکتا ہے نیب کی نادانستہ غلطی کی وجہ سے 100 روپے کا کیس 105 یا 110 روپے کا بن گیا ہو لیکن ایسا نہیں ہے کہ کسی بے گناہ شخص کے خلاف کیس درج یا ریفرنس تیار کیا گیا ہو۔

ان کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بشمول چیئرمین نیب نیب کے تمام اراکین کو خدا کو جواب دینا ہے اور ہم سے بھی ہر وہ سوال پوچھا جائے گا جو عام آدمی سے پوچھے جائے گا، نیب کو کسی قسم کا کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

انہوں نے کہ ہر کیس کا عمیق طریقے سے گہرائی کے ساتھ مکمل تجزیہ کیا جاتا ہے اور جب کیس بنتا ہے تب ہی ہم نے پیش قدمی کی کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی معصوم شخص جس نے کچھ نہ کیا ہو اور ہم نے اس کے خلاف کارروائی کی ہے اور ہم آج تک اسی پالیسی پر کارفرما ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اس تاثر کی سختی سے نفی کرتا ہوں کہ احتساب یکطرفہ ہے، احتساب یکطرفہ صرف ان لوگوں کو نظر آتا ہے جن کی آنکھوں پر پٹی یا تعصب کی عینک ہے یا معتصبانہ رائے رکھتے ہیں اور اس کی شاید یہ وجہ ہے کہ کچھ بہت بڑے نام کہ ان کے میڈیا کے چینلز اور اخبارات ہیں جبکہ نیب کے پاس جو کچھ ہے وہ آپ کے سامنے ہے لیکن ہم نے اپنے محدود وسائل کے باوجود پوری کوشش کی کہ ہم بہتر سے بہترین کی جانب گامزن رہیں۔

چیئرمین نے کہا کہ اس سلسلے میں کئی اقدامات ہم نے اٹھائے جس میں تفتیش کا نیا نظام شامل ہے پہلے صرف انویسٹیگیشن افسر (آئی او) ذمہ دار ہوتا تھا جو کہ ہم نے پوری کمبائنڈ انویسٹیگیشن ٹیم کو دے دی ہے جس کا مقصد یہ تھا کہ اجتماعی دانش سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔

انہوں نے کہ کہ چیف جسٹس پاکستان کے کچھ فیصلوں نے ہمیں رہنمائی فراہم کی جس کے نتیجے میں نیب کے وہ قوانین کہ جو 1990 سے نہیں بن سکے وہ پایہ تکمی کو پہنچے اور یہ قواعد صدر مملکت کو بھجوائے گئے اور ان کی ہدایت پر اب وزیراعظم ہاؤس کو بھجوائے جارہے ہیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ ایک تجزیہ نگار کو کہتے سنا کہ چیئرمین نیب نے اپنے عہدے کی مدت میں اضآفہ کردیا ہے لیکن میں اپنے عہدے کی مدت میں کبھی ایک گھنٹے کا بھی اضافہ کرنا نہ چاہوں گا نہ کروں گا، میری مدت ملازمت کو اللہ عزت و آبرو کے ساتھ مکمل کرے، مجھے کوئی تشنگی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب کو اپنے عہدے کی مدت میں توسیع کا اختیار نہیں ہے، مجھے افسوس ان افراد پر ہے جنہوں نے نہ کبھی نیب آرڈیننس پڑھا نہ قانون پڑھا نہ عدالتی فورمز کے فیصلے دیکھے، انہیں تنقید کرنی ہوتی ہے تو وہ کرتے ہیں لیکن میں نے کبھی برا نہیں مانا۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ مجھ پر تنقید کریں گے، تذلیل، تحقیر، دشنام طرازی کریں گے تو اس کا کیا فائدہ ہوگا؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ آپ یہ بتائیں کہ نیب کیا کرے اور کس طرح کریں، آج تک ایسا نہیں ہوا۔