پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف اپوزیشن کا احتجاج، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے واک آؤٹ

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس سے واک آؤٹ کیا گیا۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کا موقع نہ ملنے پر اپوزیشن اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے، وزیراعظم کے خلاف نعرے بازی کی اور بعدازاں اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر لیا۔ خواجہ آصف نے اپوزیشن کی طرف سے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔ سینیٹ میں رضا ربانی حکومت پر برس پڑے اور کہا کہ غریب کا چولہا بجھ رہا ہے، حکومت نے سعودی عرب کے ساتھ تیل کی قیمتوں سے متعلق معاہدہ کیا وہ کہاں ہے؟

پاکستان میں تیل نکل آئے تو ہمارا مسئلہ حل ہو جائے گا: سینیٹر شہزاد وسیم سینیٹ میں قائدِ ایوان شہزاد وسیم کا اظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جن ممالک میں تیل نکلتا ہے وہاں بھی تیل کی قیمت بڑھی ہے، پاکستان میں تیل نکل آئے تو ہمارا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

شہزاد وسیم نے کہا کہ اوگرا نے تو بہت زیادہ قیمت بتائی تھی، حکومت نے کم سے کم اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں تو کتے کے کاٹنے کی ویکسین نہیں مل رہی، قومی اسمبلی میں قانون سازی کے وقت سیٹیاں بجائی جاتی ہیں، جلد وزیر خزانہ کو سینیٹر بنانے جا رہے ہیں۔ ادھر پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے رہنما رانا مشہود کی تقریر کے دوران حکومتی اراکین کی جانب سے شور شرابا کیا گیا۔