سی سی پی او کے بیان پر پوری پنجاب کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے تھی، لاہورہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ نے لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر خاتون کے ساتھ گینگ ریپ کے واقعے پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست میں سی سی پی او لاہور کو رپورٹ کے ساتھ عدالت طلب کرلیا۔

ساتھ ہی چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ سی سی پی او لاہور کے بیان پر پوری پنجاب کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے تھی۔

خیال رہے کی لاہور کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) عمر شیخ کی جانب سے موٹروے ریپ کیس کے بعد ایک متنازع بیان دیا گیا تھا جس پر عوام کی بڑی تعداد نے انہیں ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

صوبائی دارالحکومت کی عدالت عالیہ میں چیف جسٹس قاسم خان نے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست پر سماعت کی، اس دوران درخواست گزار اور سرکاری وکیل پیش ہوئے۔

دوران سماعت درخواست گزار ندیم سرور نے مؤقف اپنایا کہ یہ کیس انتظامیہ کی ناکام ہے، ساتھ ہی انہوں نے کمیشن بنانے کی استدعا کی۔

اس پر چیف جسٹس قاسم خان نے پوچھا کہ کمیشن کیسے تشکیل پاتا ہے، جس پر درخواست گزار نے بتایا کہ قانون میں تو کمیشن حکومت تشکیل دیتی ہے۔

ان کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے قانون بتادیں، جس پر سرکاری وکیل نے عدالت میں بیان دیا کہ اس کیس میں انکوائری (تحقیقات) ہورہی ہے۔

جس پر عدالت عالیہ کے چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کیسی انکوائری ہے کہ ڈیپارٹمنٹ ہیڈ (محکمے کا سربراہ) مظلوم کو غلط کہنے پر تل جائے۔

اس دوران سرکاری وکیل نے بتایا کہ وزیر قانون کی سربراہی میں کمیٹی بنائی ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیر قانون کا کیا کام ہے۔

سی سی پی او لاہور کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ اس جملے پر پوری پنجاب کابینہ کو معافی مانگنی چاہیے تھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر اس ذہن کے ساتھ تفتیش ہو رہی ہے تو پتا نہیں کتنی حقیقت اور کتنی ڈرامہ بازی ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ٹی وی پر دیکھ رہا تھا کہ ایک مشیر بھی وہاں پہنچا ہوا تھا، اس کا کیا کام ہے۔

بعد ازاں عدالت نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کو ریکارڈ سمیت دوپہر ایک بجے تک طلب کرلیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ سی سی پی او، تفتیشی رپوٹ کے لر ایک بجے پیش ہوں، مزید یہ کہ ریپ کیس میں ابھی تک جتنی پیش رفت ہوئی ہے اس کی رپورٹ بھی پیش کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر سی سی پی او کو شو کاز ہوا ہے تو وہ بھی لائیں اور ریکارڈ بھی لے کہ آئیں۔

خیال رہے کہ 9 ستمبر کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر گجرپورہ کے علاقے میں 2 مسلح افراد نے ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ وہاں گاڑی بند ہونے پر اپنے بچوں کے ہمراہ مدد کی منتظر تھی۔

واقعے کی سامنے آنے والی تفصیل سے یہ معلوم ہوا تھا کہ لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کی رہائشی 30 سال سے زائد عمر کی خاتون اپنے 2 بچوں کے ہمراہ رات کو تقریباً ایک بجے اس وقت موٹروے پر پھنس گئیں جب ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا۔

اس دوران خاتون نے اپنے ایک رشتے دار کو بھی کال کی تھی، جس نے خاتون کو موٹروے ہیلپ لائن پر کال کرنے کا کہا تھا جبکہ وہ خود بھی جائے وقوع پر پہنچنے کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔

تاہم جب خاتون مدد کے لیے انتظام کرنے کی کوشش کر رہی تھیں تب 2 مرد وہاں آئے اور انہیں اور ان کے بچوں (جن کی عمر 8 سال سے کم تھی) بندوق کے زور پر قریبی کھیت میں لے گئے، بعد ازاں ان مسلح افراد نے بچوں کے سامنے خاتون کا ریپ کیا، جس کے بعد وہ افراد جاتے ہوئے نقدی اور قیمتی سامان بھی لے گئے۔

اس واقعے کے بعد جائے وقوع پر پہنچنے والے خاتون کے رشتے دار نے اپنی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ بھی تھانہ گجرپورہ میں درج کروایا تھا۔

تاہم اس واقعے کے بعد سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے ایک ایسا بیان دیا تھا جس نے تنازع کھڑا کردیا اور عوام، سول سوسائٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے ان کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

سی سی پی او نے کہا تھا کہ ‘خاتون رات ساڑھے 12 بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلیں، میں حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہیں، اکیلی ڈرائیور ہیں، آپ ڈیفنس سے نکلی ہیں تو آپ جی ٹی روڈ اکا سیدھا راستہ لیں اور گھر چلی جائیں اور اگر آپ موٹروے کی طرف سے نکلی ہیں تو اپنا پیٹرول چیک کر لیں’۔

یہی نہیں واقعے کے بعد عوام میں شید غم و غصہ پایا گیا تھا جس پر حکومت بھی ایکشن میں آئی تھی اور آئی جی پنجاب پولیس نے مختلف تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی تھیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی صوبائی وزیرقانون راجا بشارت کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی بنائی تھی۔

علاوہ ازیں 12 ستمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب انعام غنی و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

ساتھ ہی اس موقع پر بتایا گیا تھا کہ واقعے کے مرکزی ملزم کی شناخت عابد علی کے نام سے ہوئی اور اس کا ڈی این اے میچ کرگیا ہے جبکہ اس کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں، اس کے علاوہ ایک شریک ملزم وقار الحسن کی تلاش بھی جاری ہے۔

تاہم 13 ستمبر کو شریک ملزم وقار الحسن نے سی آئی اے لاہور میں گرفتاری دیتے ہوئے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی تھی۔