روس کے ساتھ بہترتعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں ہے،،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمدآفریدی

اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمدآفریدی نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ بہترتعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں ہے،دونوں ممالک میں اعلیٰ سطح پر رابطے برقرار ہیں جو کہ خوش آئند ہے،ریلوے، ٹرانسپورٹ، معدنیات، پاور جنریشن، آئل اینڈ گیس کے شعبوں میں پاکستان اور روس کے مابین اشتراک تسلی بخش ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں روسی سفیر ڈنیلا گانیچ سے ورچوئل ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، افغان صورتحال اوردلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ ڈپٹی چیئرمین نے کہا کہ روس کے ساتھ بہترتعلقات پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں ہے۔گزشتہ دو دہائیوں میں دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہت بہتری آئی ہے۔انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک میں اعلیٰ سطح پر رابطے برقرار ہیں جو کہ خوش آئند ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم عمران خان اور صدر پوٹن کے مابین افغانستان سمیت باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے حوالے سے معنی خیز ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے۔

فریقین نےا سینیٹ آف پاکستان اور کونسل آف دی فیڈریشن کے درمیان تعلقات مضبوط کرنے کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی، غربت ، انسانی حقوق جیسے چیلجز سے نمٹنے کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔مرزا آفریدی نے کہا کہ کورونا کی روک تھام کیلئے روسی ویکسین سپوٹنک روسی حکومت کا قابل ستائش اقدام ہے۔ دونوں ممالک آئی پی یو اور اے پی اے کے ممبرہیں ۔دونوں ممالک کو اس قسم کے فورمز پرعالمی خوشحالی اور پرامن ،مستقبل کیلئے کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ،پاک سٹریم گیس پائپ لائن منصوبے کی جلد تکمیل کیلئے پر عزم ہے ۔

منصوبے کو حتمی شکل دینے کیلئے تکنیکی کمیٹی کی باقاعدگی سے اجلاس ہو رہے ہیں۔مرزا آفریدی نے کہا کہ پاکستان اور روس کے پاس باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت کیلئے جے سی سی، جوائنٹ ورکنگ گروپ آن انرجی کوآپریشن، انسداد دہشت گردی کیلئے جوائنٹ ورکنگ گروپ جیسے ادارہ جاتی میکینزم موجود ہے۔ورچوئل میٹنگ میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور معاشی تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ رواں سال باہمی تجارت کا حجم 780 ملین ڈالرز تک جا پہنچا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔