حکومت مجھے اور میرے خاندان کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے، شہباز شریف

لاہور: صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت مجھے اور میرے خاندان کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔

احتساب عدالت لاہور کے ایڈمن جج جواد الحسن نے شہباز شریف اور اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس پر سماعت کی جس میں صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) شہباز شریف پیش ہوئے تاہم حمزہ شہباز کو علالت کے باعث پیش نہیں کیا جاسکا۔

شہباز شریف نے کمرہ عدالت میں بولنے کی اجازت طلب کی اور کہا کہ میں نے 10 سالوں میں شفاف نیلامی کا کام کیا ہے، اس ملک کی پائی پائی بچانے کے لیے کام کیا، میں نے اپنے 3 ادوار میں سرکاری خزانے سے ایک روپیہ بھی ذاتی استعمال نہیں کیا، میرے فیصلوں سے میرے خاندان کے لوگوں کے کاروبار کو نقصان پہنچا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے گنے کی قیمت 182 من مقرر کی اور ہم نے 180 روپے من مقرر کی، یکدم سندھ حکومت نے گنے کی قیمت 155 مقرر کردی جس سے ہم پر دباؤ آیا لیکن میں نے قیمت کم نہ کی، سندھ ہائی کورٹ نے قیمت 172 مقرر کی اور 12 روپے سبسڈی دی، میر پاس درجنوں درخواستیں آئیں، میرے خاندان کا دباؤ بھی تھا میں نے کہا میرا استعفیٰ یہ پڑا ہے لیکن میں کسی قیمت گنے کی قیمت ایک دھیلا کم نہ کرونگا، میرے ایک فیصلے سے میرے خاندان کی 2 ملوں کو ایک ارب کا نقصان ہوا۔

صدر (ن) لیگ شہباز شریف نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مجھے اور میرے خاندان کو انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے، یہ نیب نیازی گٹھ جوڑ ہے تاہم مجھے اللہ پر پورا بھروسہ ہے ہمیں انصاف ملے گا۔

منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد کی جاچکی ہے جب کہ سلمان شہباز کو اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے صحت جرم سے انکار پر عدالت نے گواہان کو آج طلب کیا ہے۔