پی آئی اے کی پرواز کو یو اے ای سول ایوی ایشن نے کیوں روکا؟

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے)کے متحدہ عرب امارات کی ریاست راس الخیمہ جانے والے طیاروں کے فلائٹ مینجمنٹ کمپیوٹر میں نیوی گیشن یا رہنمائی فراہم کرنے کیلئے مطلوبہ ڈیٹا ہی نہیں ہے ۔

6 ستمبر کو اسلام آباد سے راس الخیمہ جانے والی پی آئی اے کی پرواز پی کے 205 کے ائیر بس طیارے کو مقامی سول ایوی ایشن حکام نے روک لیا اور کئی گھنٹے تک پرواز کی اجازت نہیں دی ۔ رہنمائی کا مطلوبہ نظام نہ ہونے اور غلط بیانی کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کئی گھنٹے تک پی آئی اے کے طیارے کو روکے رکھا۔

معائنے کے دوران پتا چلا کہ طیارے کے ایف ایم سی یعنی فلائٹ مینجمنٹ کمپیوٹر میں نیوی گیشن کی صلاحیت آر این پی ۔ون اور آر این اے وی ۔1 موجود ہی نہیں لیکن طیارے کے فلائٹ پلان میں آر این پی ۔ ون اور آر این اے وی ۔1 ہونے کا اندراج کیا گیا ہے ۔اس غلط بیانی پر طیارے کو روک لیا گیا۔

ذرائع نے بتایا کہ ان دنوں راس الخیمہ جانے والے پی آئی اے کے کسی طیارے کے کمپیوٹر میں نیوی گیشن کی صلاحیت آر این پی ۔1 اور آر این اے وی ۔1 موجود ہی نہیں لیکن پی آئی اے انتظامیہ کے مبینہ دباؤ پر پائلٹ فلائٹ پلان میں یہ صلاحیت ہونے کا غلط اندراج کر رہے ہیں ۔

ائیرلائن ذرائع کے مطابق ان دنوں پی آئی اے کی راس الخیمہ کیلئے پروازوں میں اضافہ ہوگیا ہے ،سفری پابندیاں نرم ہونے کے بعد بڑی تعداد میں مسافر پاکستان سے راس الخیمہ جا رہے ہیں اور وہاں سے یہ امارات کی دوسری ریاستوں میں چلے جاتے ہیں ۔ ادھر پی آئی اے ترجمان کا مؤقف ہے کہ یو اے ای کی فضائی حدود میں آر این اے وی کمپلائنٹ طیاروں کو ہی آنے کی اجازت ہے ۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ دبئی اور شارجہ کی طرح راس الخیمہ ریگولر اسٹیشن نہیں ہے جس کی وجہ سے وہاں کی آر این پی ون طیاروں کے ڈیٹا بیس میں موجود نہیں اس سب کے باوجود طیارہ مکمل طور پر صحیح تھا اور تمام پروسیجرز کا خیال رکھا گیا۔ پی آئی اے راس الخیمہ کیلئے بوئنگ 777 اور ائیربس اے 320 طیارے استعمال کر رہی ہے ۔