معیشت کی ترقی کے لیے کراچی کے انفرا اسٹرکچر کو بہتر کرنا ہوگا، مشیر خزانہ

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ معیشت کی ترقی کے لیے کراچی کے انفرا اسٹرکچر کو بہتر کرنا ناگزیر ہے۔

کراچی اسٹاک ایکسچینج میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ہم ایسی کوئی چیز نہیں کریں گے کہ کاروبار پر جان بوجھ کر اضافی بوجھ ڈالا جائے کیونکہ اس وقت ہمیں معاشی سرگرمیاں بڑھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے نئے انسٹرومنٹس لارہے ہیں۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے کئی لوگوں کے روزگار متاثر ہوے، معیشت کی ترقی کے لیے کراچی کے انفرا اسٹرکچر کو بہتر کرنا ہوگا، کراچی کو ایک ہزار ارب سے زائد کا پیکج اس لیے دیا گیا تاکہ غریبوں کی مدد کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے 5 مہینوں کا نقصان ہوا ہے تو اس سے آگے بڑھنے میں بھی چند مہینے میں لگیں گے، بیروزگاری اس وقت ختم ہوسکتی ہے جب کاروباری برادری سرمایہ کاری کرے۔

ٖڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ‘حکومت نے کنسٹرکشن کے شعبے میں ٹیکسز بالکل کم کردیے ہیں، حکومت کی اقتصادی پالیسیز کے باعث معاشی اشاریے بہتر ہوئے’۔

انہوں نے تجویز دی کہ ‘بین الاقوامی سطح پر سود کی شرح کم ہے، قرض لینے کی ضرورت ہو تو بین الاقوامی سطح پر لیے جائیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘قرض کم کرنے کے لیے ہمیں اخراجات کم کرنے ہوں گے، ڈالر کمائے بغیر لوگوں کے حالات نہیں بدل سکتے’۔

قبل ازیں کراچی اسٹاک ایکسچینج میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بہت ذرائع ہیں اسے ماضی کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھانے کے لیے سب کو مل کر کوششیں کرنی ہوں گی۔

مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ حکومت کا کام اچھی پالیسیز بنانا اور معاشرے سے کرپشن کا خاتمہ اور قواعد کی پاسداری یقینی بنانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘جنگ عظیم کے بعد تمام ممالک ایک جیسی حالت میں تھے تاہم اب کسی ممالک کی فی کس آمدنی 2 ہزار ڈالر تو کسی کی 50 ہزار ڈالر تک ہے’۔

انہوں نے کہا کہ کسی کے آگے بڑھنے اور کسی کے پیچھے رہ جانے کی وجوہات سے ہمیں سیکھنا ہے، جن ممالک نے اپنے لوگوں پر سرمایہ کاری کی انہوں نے ہی ترقی کی ہے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت کاروبار نہیں چلا سکتی اس کے لیے ضروری ہے کہ کاروباری برادری آگے آئے۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا اگر وہ دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت یا سرمایہ کاری نہ کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹاک مارکیٹ اس میں اہم کردار ادا کرتا ہے اس لیے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اسٹاک مارکیٹ، اس کی کارکردگی، شفافیت اور اس کا طریقہ کار پاکستان کی پہچان بنے۔

انہوں نے کہا کہ 200 ارب روپے کا اینرجی سکوک بہت بڑی پیش رفت ہے، یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم نئے تجربات کرنا چاہتے ہیں۔

قبل ازیں اسٹاک ایکسچینج کے دورے کے دوران انہوں نے گھنٹی بجا کر کاروباری ہفتے کا آغاز بھی کیا تھا۔