دو رکنی بینچ کے حکم میں مداخلت کا ارادہ نہیں، جسٹس عمر عطابندیال کے ریمارکس

قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق ازخود نوٹس کے دائرہ اختیار کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ہمارا 2 رکنی بینچ کے حکم میں مداخلت کا ارادہ نہیں تاہم اس سے پیدا ہونے والی مشکل کا تدارک ضروری ہے۔

سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق ازخود نوٹس کے دائرہ اختیار کیس کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل پاکستان نےدلائل میں کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ایک خط لکھا اورمؤقف اختیارکیاکہ سپریم کورٹ کے ایک بینچ کی مانیٹرنگ دوسرا بینچ کرسکتاہے اور نہ ہی اس کی کارروائی کاجائزہ لے سکتاہے۔

اٹارنی جنرل نے دلائل دیے کہ 1997 میں ایک بینچ کو دوسرے بینچ کے خلاف احکامات دیتے دیکھا تھا، یقین ہے اب ایسانہیں ہوگا، ماضی میں ججز ازخود نوٹس لےکرچیف جسٹس کو بھیجتے رہے، مرضی کے جج کے سامنے کیس لگوانے کا رجحان تباہ کن ہے، درخواست دائر ہوئے بغیر کوئی بینچ اس پر ازخود کارروائی نہیں کر سکتا۔
اٹارنی جنرل نے دلائل میں بتایا کہ فیض آباد دھرنا کیس میں بھی سپریم کورٹ کے بینچ نے ازخود نوٹس لیا، ماضی میں بھی کچھ ازخودنوٹس لیے جس میں چیف جسٹس کومعاملہ نہیں بھیجا گیا۔

اس دوران قائم مقام جسٹس عمر عطا بندیال نےریمارکس دیےکہ ڈیڑھ سال فل کورٹ میں بیٹھ کر اندازہ ہوا کہ عدالتی کام رک جاتا ہے، دو رکنی بینچ کے حکم میں مداخلت کا ارادہ نہیں تاہم اس سے پیدا ہونے والی مشکل کا تدارک ضروری ہے، اگر کوئی مناسب وجہ نہ ہوئی تو یہ کیس دوبارہ دو رکنی بینچ کے سامنے چلا جائے گا۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہا کہ چیزوں کو تباہ کرنا آسان ہے لیکن بنتی بہت مشکل سے ہیں، اگر ازخود نوٹس لینے کا کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا تو نظام نہیں چل سکتا۔

قائم مقام چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 20 اگست کا حکم مفاد عامہ اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کو مدنظر رکھ کر دیا لیکن سپریم کورٹ کے قواعد کو مدنظرنہ رکھا، صحافیوں کاسپریم کورٹ پر بطور ادارہ اعتماد نہ کرنا بھی ایک اہم پہلو ہے۔

اٹارنی جنرل نے تحریری تجاویز جمع کرواتے ہوئےکہا کہ سپریم کورٹ کو از خود نوٹس کا اختیار صرف مخصوص حالات میں استعمال کرنا چاہیے جبکہ ازخود نوٹس لےکرفریقین کونوٹس کرنے والا بینچ معاملہ چیف جسٹس کو بھجوائے، 2 رکنی بینچ تعین کرے کہ ازخودنوٹس بنتا ہے یا نہیں۔

کیس پر مزید سماعت جمعرات کو ہوگی۔