اپوزیشن کا 20 ستمبر کو کثیر الجماعتی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان

ملک کی بڑی اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کی متعدد ملاقاتوں اور پس پردہ رابطوں کے بعد بالآخر رہبر کمیٹی نے اعلان کردیا کہ کثیر الجماعتی کانفرنس (ایم پی سی) 20 ستمبر کو اسلام آباد کے زرداری ہاؤس میں ہوگی۔

کثیر الجماعتی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان رہبر کمیٹی کے کنوینر اور جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما اکرم درانی نے اپنی رہائش گاہ پر کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک نیوز بریفنگ میں کیا۔

اس موقع پر پیپلز پارٹی کے راجا پرویز اشرف، شیری رحمٰن، فرحت اللہ بابر اور نیر بخاری، ملسم لیگ (ن) کے احسن اقبال، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے عثمان کاکڑ اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے ڈاکٹر جمال ادین جملدانی موجود تھے۔

11 مختلف جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل رہبر کمیٹی کے اجلاس سے ایک روز قبل ہی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری نے کراچی میں ملاقات کی تھی۔

باخبر ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ رہبر کمیٹی کے اجلاس میں چھوٹی جماعتیں بالخصوص بلوچستان کی قوم پرست جماعتیں گزشتہ دو برسوں کے دوران پی پی پی اور ملسم لیگ (ن) کے کردار پر سخت برہم ہوئیں اور انہیں اپوزیشن دھڑوں میں عدم اتفاق کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

ذرائع نے بتایا کہ پی کے میپ کے سینیٹر عثمان کاکڑ اجلاس میں سب سے زیادہ بولے اور انہوں نے یاد دلایا کہ کس طرح پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) نے 2018 کے عام انتخابات کے بعد وزیراعظم، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور صدارتی انتخاب کے دوران اپوزیشن اتحاد کو دھوکا دیا۔

انہوں نے فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق بلز پارلیمان میں منظور کروانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ دینے پر بھی دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

اجلاس میں شریک ایک رکن نے بتایا کہ اپوزیشن اراکین نے اپنے اتحاد کو جنر؛ ضیاالحق کے دور اقتدار میں اٹھنے ولی جمہوریت بحالی تحریک (ایم آر ڈی) اور پرویز مشرف کی حکومت میں جمہوریت بحالی اتحاد (اے آر ڈی) کی شکل میں ڈھالنے پر بھی گفتگو کی۔

اجلاس میں شریک کچھ اراکین کی رائے یہ تھی کہ حکومت کے خلاف مکمل مہم شروع کرنے سے قبل انہیں اپنے اتحاد کو باقاعدہ بنانے کی ضرورت ہے۔

علاوہ ازیں اجلاس میں مجوزہ حکومت مخالف تحریک کے ممکنہ نتائج پر بھی بات چیت کی گئی، ذرائع نے بتایا کہ شرکا کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ان ہاؤس تبدیلی ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے کارگر نہیں ہوگی اس لیے نئے انتخابات کے مطالبے پر اتفاق کیا گیا۔

علاوہ ازیں اجلاس میں میثاق جمہوریت کو توسیع دینے اور کوئی نیا معاہدہ کرنے پر بھی بات چیت کی گئی ذرائع نے کہا کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے مبینہ اثاثوں کے حوالے سے بھی بات ہوئی اور شرکا نے ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے آپشن کا بھی جائزہ لیا۔

تاہم ان تمام معاملات کا حتمی فیصلہ کثیر الجماعتی کانفرنس پر چھوڑ دیا گیا جس میں جماعتوں کے قائدین شرکت کریں گے۔