ڈائریکٹر جنرل اسٹریٹجک پلاننگ ڈویژن کا وزیر خارجہ کے ساتھ جوہری سفارتکاری پر تبادلہ خیال

اسلام آباد: ڈائریکٹر جنرل اسٹریٹجک پلاننگ ڈویژن لیفٹیننٹ جنرل ندیم زکی منج نے جوہری سفارتکاری پر بات چیت کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔

وزیر خارجہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کی ایمپلائمنٹ کنٹرول کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین بھی ہیں جو خلا، جوہری ٹیکنالوجی اور متعلقہ ایپلکیشنز کی تحقیق، ترقی، پیدوار اور استعمال پر سویلین نقطہ نظر فراہم کرتی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ 10 روز کے دوران یہ اعلیٰ سویلین قیادت سے جنرل ندیم زکی منج کی دوسری ملاقات ہے جو عوام کے سامنے آئی ہے۔

قبل ازیں انہوں نے 22 اگست کو وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی تھی جسے اسٹریٹجک پلانز ڈویژن پر بریفنگ کہا گیا تھا جو ملک کے جوہری اور میزائل پروگرام کا انتظام سنبھالتی ہے۔

22 اگست کو ہونے والی ملاقات وزیراعظم کے اقتدار سنبھالنے کے 2 برس بعد اسٹریٹجک پلاننگ ڈویژن پر وزیراعظم کے لیے پہلی باضابطہ اعلان کردہ بریفنگ تھی۔

دفتر خارجہ اسلحے کی روک تھام اور تخفیف اسلحہ، ایکسپورٹ کنٹرول رجیم، جوہری اعتماد کے اقدامات، علاقائی اسٹریٹیجک استحکام، اہم ریاستوں کے سات باہمی جوہری مذاکرات، جوہری توانائی کے پر امن استعمال اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ روابط جیسے معاملات پر اسٹریٹیجک پلاننگ ڈویژن کے ساتھ قریبی رابطے رکھتا ہے۔

ملاقات کے حوالے سے ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ نے اسٹریٹیجک پلاننگ ڈویژن کے کردار کو سراہا۔

اسٹریٹیجک پلاننگ ڈویژن 2001 میں قائم کیا تھا جو نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے سیکریٹریٹ کے طور پر کام کرتا ہے اور اس کی پالیساں نافذ کرتا ہے۔

ایس ڈی پی کے ڈائریکٹر این سی اے کے سیکریٹری کے فرائض بھی سر انجام دیتے ہیں، جنرل ندیم زکی منج نے گزشتہ برس نومبر میں اس کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ سنبھالا تھا۔

رپورٹس کے مطابق پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس ہوا تھا لیکن اس کے بعد اجلاس سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا تھا۔

پی ٹی آئی حکومت کے 2 سالہ دورِ اقتدار میں یہ اب تک نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا واحد اجلاس تھا جو منعقد ہوا۔