وزیراعظم کی عثمان بزدار کو ترقیاتی منصوبوں پر انہیں رابطے میں رکھنے کی ہدایت

لاہور: راوی ریور فرنٹ اربن ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کی سافٹ لانچ کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد وزیراعظم عمران خان نے منصوبے کی تفصیلی بریفنگ حاصل کی اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے کہا ہے اسے روزانہ کی بنیاد پر مانیٹر کیا جائے اور انہیں ‘رابطے میں رکھا جائے’۔

وزیراعظم گزشتہ روز دوپہر 3 بجے لاہور پہنچے تھے اور شہر میں کچھ اجلاسوں کی صدارت کرتے ہوئے مصروف وقت گزارا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ عمران خان 15 ستمبر کو خود اس منصوبے کا آغاز کریں گے جس کی سافٹ لانچ بھی 7 اگست کو انہوں نے ہی کی تھی۔

راوی ریور پروجیکٹ کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے پر کام کرتے ہوئے تعمیرات اور ماحولیات کے بین الاقوامی معیار پرعمل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف لاہور کے زیر زمین پانی کو دوبارہ اوپر لانے اور شہر کو صاف پانی کی فراہمی کے لیے اہم ہے بلکہ ملک میں تعمیراتی شعبے کے آغاز کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے۔

اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، مشیر وزیر اعظم شہزاد اکبر، معاون خصوصی ذوالفقار بخاری، صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان، چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) انور علی حیدر، چیئرمین راوی ریور فرنٹ اربن ڈیولپمنٹ پراجیکٹ راشد عزیز اور سینیئر سرکاری افسران شریک تھے۔

اجلاس میں وزیر اعظم نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گا اور کئی غیر ملکی سرمایہ کار پہلے ہی اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

گورننس کمیٹی
بعدازاں وزیراعظم نے حال ہی میں تشکیل دی گئی ‘صوبائی کمیٹی برائے گڈ گورننس’ کے اجلاس کی صدارت کی جس میں پی ٹی آئی کے سینئر اراکین اور کارکنان بشمول ڈاکٹر یاسمین راشد، مراد راس، انصار مجید نے شرکت کی۔

اس کمیٹی کا مقصد وزیراعلیٰ پنجاب کو گورننس کے معاملات پر مشورے دینا ہے جس نےحکومت پنجاب کے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا اور وزیراعظم کی موجودگی میں وزیراعلیٰ کو مشورے دیے۔

یہ اس گورننس کمیٹی کا دوسرا اجلاس تھا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے بھی وزیراعظم کو صوبے میں اپنے شروع کیے گئے منصوبوں سے آگاہ کیا اور اپنی 2 سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کی۔

ان کی اجازت کے بعد حکومت پنجاب ممکنہ طور پر آج یہ رپورٹ خوب زور شور سے متعارف کرواسکتی ہے جس طرح وفاقی حکومت نے اپنی دو سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کی تھی تا کہ زیادہ سے زیادہ سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکے۔

بعدازاں وزیراعظم شام 7 بجے واپس اسلام آباد روانہ ہوگئے تھے۔