دھماکا خیز مواد کیس میں صحافی سمیت 5 ملزمان بری

کراچی: انسداد دہشت گردی عدالت نے مبینہ طور پر دھماکا خیز مواد اور اسلحہ رکھنے کے ایک کیس میں صحافی سمیت 5 ملزمان کو بری کردیا۔

5 ملزمان روزنامہ جنگ کے لیے کام کرنے والے صحافی سید مطلوب حسین، سید محتشم حیدر شاہ، سید عمران حیدر شاہ، سید وقار رضا اور محمد عباس پر گزشتہ سال دھماکا خیز مواد اور غیرقانونی اسلحہ رکھنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

پولیس نے 30 مارچ 2019 کو سید مطلوب حسین کو گرفتار کیا تھا لیکن رپورٹر کے اہل خانہ نے الزام لگایا تھا کہ انہیں سلمان فارسی سوسائٹی میں رہائشگاہ سے ‘نامعلوم افراد اٹھا کر’ لے گئے تھے۔

ان کی مبینہ گمشدگی پر صحافیوں کی نمائندہ تنظیموں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاج کیا تھا۔

علاوہ ازیں سینٹرل جیل کے اندر جوڈیشل کمپلیکس میں ٹرائل مکمل کرنے والے اے ٹی سی-13 کے جج نے دونوں فریقین کے جانب سے دلائل مکمل ہونے اور ثبوت پیش کرنے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔

جج نے فیصلے میں لکھا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

بعد ازاں عدالت نے استغاثہ کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات سے ملزمان کو بری کردیا۔

عدالت میں یہ تمام ملزمان ضمانت پر ہونے کے باعث پیش ہوئے تھے، تاہم جج نے ان کے ضمانتی مچلکے منسوخ کرتے ہوئے انہیں ختم کردیا اور موجودہ کیسز میں ان کی رہائی کے احکامات جاری کردیے۔

واضح رہے کہ استغاثہ کا کہنا تھا کہ پولیس یکم مئی 2019 کو اطلاع پر چھاکر ہوٹل کے قریب اٹک پیٹرول پمپ پہنچی تھی، جہاں انہیں مبینہ طور پر 5 ملزمان ایک بریف کیس کے ساتھ ملے تھے۔

ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ ملزم محتشم حیدر کے پاس سے ایک دستی بم، 5 گولیوں کے ساتھ ایک پستول، دستاویزات، پاسپورٹس، ایک سی این آئی سی، اے ٹی ایم کارڈز اور 470 روپے کے معمولی نقد رقم برآمد ہوئی تھی۔

اس کے علاوہ پولیس نے ملزم عمران حید کے قبضے سے مبینہ طور پر ایک دستی بم، 5 گولیوں کے ساتھ ایک 30 بور کا پستول، سی این آئی سی اور دیگر دستاویزات برآمد کیے تھے۔

استغاثہ نے مزید بتایا تھا کہ کہ شریک ملزم وقار کے پاس سے ایک دستی بم، 5 گولیوں کے ساتھ ایک پستول برآمد ہوئی تھی۔

مزید برآں ملزم محمد عباس کے پاس سے ایک دستی بم اور 3 گولیوں کے ساتھ ایک پستول برآمد کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ استغاثہ نے یہ بھی بتایا کہ صحافی سید مطلوب حسین کے پاس سے 3 گولیوں کے ساتھ ایک پستول برآمد ہوئی تھی۔

خیال رہے کہ سائٹ سپرہائی وے تھانے میں ریاست کی مدعیت میں دھماکا خیز مواد رکھنے کے قانون کی شق 5/4 کے ساتھ ساتھ سندھ اسلحہ ایکٹ 2013 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کی شق 7 (دہشت گردی کے لیے سزا) کے تحت 5 الگ الگ مقدمات درج کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ مئی 2019 میں ایک پریس کانفرنس میں اس وقت کے ڈی آئی جی شرق عامر فاروق نے دعویٰ کیا تھا کہ مبینہ طور پر فرقہ وارانہ قتل میں ملوث رپورٹر سمیت 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا تھا کہ سید مطلوب حسین نے بیرون ملک سے تربیت حاصل کی تھی اور وہ سرکاری ویب سائٹ سے شخصیات کی ایک فہرست ڈاؤن لوڈ کرکے ایک ‘مخصوص وقت’ پر ممکنہ ٹارگٹ کلنگ کے لیے ‘غیرملکی ہینڈلر’ کے حوالے کرتا تھا۔