ایون فیلڈ ریفرنس اپیل، مریم نواز اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف خاندان کے خلاف دائر مختلف ریفرنسز کی متفرق درخواستوں کی سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوگئیں۔

خیال رہے کہ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کا ڈویژن بینچ ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی درخواست ، نواز شریف کی جانب سے العزیزیہ اور ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف درخواست کی سماعت کررہا ہے۔

ساتھ ہی قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت کے خلاف اپیل کی بھی سماعت کی جائے گی۔

مریم نواز کے ہمراہ ان کے شوہر کیپٹن (ر) محمد صفدر، مسلم لیگ (ن) کے رہنما پرویز رشید بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

مریم نواز مری سے اسلام آباد میں داخل ہوئیں اور بارہ کہو پہنچنے پر ان کے سیکڑوں کارکنان اور حامیوں نے نعروں اور پھولوں کی پتیوں سے ان کا استقبال کیا۔

مریم نواز کی پیشی کے موقع پر ہائی کورٹ میں سیکیورٹی کے لیے پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد کو تعینات کیا گیا تھا، اسلام آباد پولیس کے مطابق 560 اہلکار، 3 ڈی ایس پیز اور 9 انسپکٹر تعینات ہیں۔

عدالت کے احاطے میں صرف وکلا اور میڈیا نمائندوں کو داخل ہونے کی اجازت ہے جبکہ پولیس حکام کے مطابق سادہ لباس میں ملبوس اہلکار بھی گشت پر ہیں۔

نواز شریف ملک سے دور نہیں رہیں گے، مریم نواز
عدالت میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے نائب صدر مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ یہ تو آل پارٹیز کانفرنس(اے پی سی) میں معلوم ہو گا کہ پیپلز پارٹی ہمارے ساتھ ہے یا نہیں۔

اے پی سے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ میاں صاحب اے پی سی میں جانے سے منع کریں گے، اپوزیشن جماعتوں کو مل کر حکومت کے خلاف فیصلہ کرنا چاہیے۔

رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے، پانچ سالوں میں جو نقصان کرنا تھا دو سال میں کرگئے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئی نہیں چاہے گا اس عمر میں ملک سے دور رہے، میاں صاحب کا علاج چل رہا ہے کورونا کی وجہ وہ بھی تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی وجہ نواز شریف کی سرجری ملتوی ہوگئی، میری خواہش ہے نواز شریف اپنا علاج کرائیں پاکستان واپس نہ آئیں، ان کی طبیعت جانتے ہوئے یقین سے کہہ سکتی ہو وہ ملک سے دور نہیں رہیں گے۔

نواز شریف، اہلخانہ کیخلاف ریفرنسز کا پس منظر
خیال رہے کہ العزیزیہ، فلیگ شپ اور ایوین فیلڈ تینوں ریفرنسز 7 لاکھ 85 ہزار آفشور کمپنیوں سے متعلق پانامہ پیپر لیک کا حصہ ہیں جس پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، جماعت اسلامی اور وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

عدالت عظمٰی نے نواز شریف کو بحیثیت وزیراعظم نااہل قرار دیا تھا اور نیب کو شریف خاندان کے خلاف احتساب عدالت میں 3 ریفرنس اور سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے خلاف ایک ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی تھی۔

جس پر 6 جولائی 2018 کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر کو ایون فیلڈ ویفرنس میں اس وقت سزا سنادی تھی جب وہ برطانیہ میں کلثوم نواز کی تیمارداری کررہے تھے۔

سزا کے بعد شریف خاندان کے اراکین پاکستان آئے جہاں انہیں قید کردیا گیا بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی سزا معطل کر کے ضمانت پر رہائی دی۔

دوسری جانب نواز شریف کو احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے 24 دسمبر 2018 کو العزیزیہ ریفرنس میں بھی سزا سنادی تھی، بعدازاں ایک خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں جج نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے نواز شریف کو دباؤ پر سزا سنائی،جس پر جج کو ان کے غلط فعل پر عہدے سے فارغ کردیا گیا تھا۔

گزشتہ برس اکتوبر میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو 8 ہفتوں کے طبی بنیادوں پر ضمانت دی تھی اور اس میں توسیع کے لیے حکومت پنجاب سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم صوبائی حکومت نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔