عالمی ادارے کی آڈٹ ٹیم آئندہ ماہ پی آئی اے کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے گی

راولپنڈی / کراچی: انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کی ایک نامزد سیفٹی آڈٹ ٹیم ستمبر کے وسط میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے آپریشنل مینجمنٹ اینڈ کنٹرول سسٹم کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گی۔

آپریشنل سیفٹی آڈٹ (آئی او ایس اے) ہر دو سال کے بعد کیا جاتا ہے جبکہ آخری آڈٹ 2018 میں کیا گیا تھا۔

آڈٹ پروگرام کو آئی اے ٹی اے نے 2003 میں ایئر لائنز کے آپریشنل مینجمنٹ اور کنٹرول سسٹم تک رسائی کے لیے ڈیزائن کیا تھا۔

واضح رہے کہ آئی اے ٹی اے کے مطابق لوگوں اور کاروبار کو محفوظ کرنا اولین ترجیح ہے کیونکہ وہ ایئر لائنز کے ساتھ معیارات کو بڑھانے اور بہترین طریقوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام کرتی ہے۔

دریں اثنا پائلٹوں کی ایک تنظیم نے وزیر اعظم عمران خان پر زور دیا کہ وہ پی آئی اے کی موجودہ انتظامیہ کی جگہ ہوابازی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعیناتی کرکے ادارے کو بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) کی جانب سے عائد پابندی کی وجہ سے قومی ایئر لائن کو صرف دو ماہ میں 90 ارب کے قریب نقصان ہوا ہے۔

خیال رہے کہ کراچی میں 22 مئی کو طیارے حادثے کے بعد ہوا بازی کے وزیر نے ابتدائی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ 260 سے زائد پائلٹ کے لائسنس مشکوک ہیں۔

جس کے بعد یورپی یونین کی ایجنسی نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر یکم جولائی سے چھ ماہ کے لیے پی آئی اے پروازیں معطل کردی تھیں۔

تاہم اب پی آئی اے کو اپنے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دیا ہے اور پی آئی اے جلد باضابطہ اپیل دائر کرے گی۔

پاکستان ایئر لائن پائلٹوں ایسوسی ایشن (پلوپا) کے ترجمان نے کہا کہ ای اے ایس اے کی 6 ماہ کی پابندی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دیگر غیر ملکی ایئر لائنز نے پاکستان کے بڑے شہروں تک اپنی پروازیں بڑھائی ہیں تاکہ ان کے مارکیٹ شیئرز کو فائدہ پہنچے۔

انہوں نے متنبہ کیا کہ ‘یہ خدشہ ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب پی آئی اے انتظامیہ کی ناقص پالیسی کے نتیجے میں زیادہ تر دیگر ممالک کی ایئرلائنز ہمارے لوکل روٹس پراپنا کنٹرول کر لیں گی’۔

انہوں نے بتایا کہ برٹش ایئرویز نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہیتھرو سے اسلام آباد کے لیے ستمبر سے پروازیں شروع کرے گی، یہ اپنے طے شدہ منصوبے سے دو ماہ قبل ہے۔

پی آئی اے کے چیف ایئر مارشل ارشاد ملک اور ان کی ٹیم کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے پالپا نے مطالبہ کیا کہ پی آئی اے انتظامیہ کی جگہ ‘ایسے افراد کو لایا جائے جنہیں ہوابازی کے شعبے اور آپریشنل تجربے سے متعلق خاطر خواہ معلومات ہیں’۔

ترجمان نے خدشہ ظاہر کیا کہ ‘اگر غیر ملکی ایئر لائنز بڑی تعداد میں مسافروں کو اپنی خدمات پیش کرکے مزید کاروبار کرنا شروع کردیتی ہیں تو پی آئی اے کی حیثیت ختم ہوجائے گی’۔

انہوں نے الزام لگایا کہ پی آئی اے انتظامیہ پائلٹوں کے خلاف ‘سخت اقدامات’ کر رہی ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اعتراف کیا کہ جعلی لائسنسوں کا مسئلہ غیر ضروری طور پر پیدا کیا گیا تھا۔