عزیر بلوچ پر ارشد پپو قتل کیس میں فرد جرم عائد

کراچی: انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پیپلز امن کمیٹی کے مبینہ چیف عزیر جان بلوچ پر اپنے حریف ارشد پپو اور دو دیگر افراد کے مبینہ قتل سے متعلق 7 سالہ پرانے مقدمے میں فرد جرم عائد کردی۔

واضح رہے کہ عزیر بلوچ پر 2013 میں ارشد پپو اور اس کے بھائی عرفات اور ایک معاون جمعہ شیرا کو قتل کرنے کا الزام تھا۔

سینٹرل جیل کے اندر جوڈیشل کمپلیکس میں ہونے والی سماعت میں اے ٹی سی کے جج نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق قانون ساز شاہ جہان بلوچ اور 3 دیگر افراد پر الزامات پڑھ کر سنائے۔

تاہم تمام ملزمان نے فرد جرم سے انکار کیا اور مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔

لہذا جج نے استغاثہ کے گواہوں کو طلب کرلیا اور سماعت کے اگلی تاریخ پر ملزمان کے خلاف بیابات ریکارڈ کروائیں گے۔

وکلا اور استغاثہ کے عہدیداروں نے کہا کہ سماعت کے دوران عزیر بلوچ نے مبینہ طور پر دعوی کیا کہ انہوں نے کبھی بھی عدالت میں اعترافی بیان نہیں دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عزیر بلوچ نے جج سے عدالتی مجسٹریٹ کو طلب کرنے کی بھی درخواست کی جنہوں نے فوجداری ضابطہ اخلاق کی دفعہ 164 کے تحت نام نہاد اعترافی نامہ کی ریکارڈنگ کی نگرانی کی تھی۔

خیال رہے کہ موجودہ معاملے میں 8 ملزمان پر پہلے ہی فرد جرم عائد کردی گئی ہے لیکن عزیر بلوچ کی عدم موجودگی کی وجہ سے موجودہ مقدمے میں الزام عائد نہیں کیا جاسکا تھا۔

فی الحال عزیر بلوچ کو رینجرز کی مٹھا رام سب جیل میں رکھا ہے جبکہ دو دیگر ملزم زبیر بلوچ اور ذاکر بلوچ کو جیل میں نظربند کیا گیا ہے۔

شاہجہان بلوچ، جاوید بلوچ، محمد یوسف، چاند خان نیازی اور اکرم بلوچ ضمانتوں پر تھے۔

استغاثہ کے مطابق ارشد پپو اپنے بھائی اور 10 سالہ بیٹے کے ساتھ 16 مارچ 2013 کی رات ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں ایک دوست کی پارٹی میں شرکت کے لیے گیا تھا۔

بعدازاں لڑکے نے گھر کر اپنی والدہ کو بتایا کہ دو گاڑیوں میں لگ بھگ 20 افراد ڈی ایچ اے میں فلیٹ میں آئے اور اس کے والد اور دو دیگر کو ساتھ لے گئے۔

سپریم کورٹ کی ہدایت پر کالاکوٹ پولیس اسٹیشن میں قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

ارشد پپو کے خلاف 60 مقدمات مقدمہ درج ہیں لیکن انہیں کبھی بھی کسی صورت میں سزا نہیں سنائی گئی کیونکہ بیشتر اہم گواہ یا تو ملزم کے خلاف گواہی دینے کے لیے حاضر نہیں ہوئے یا عدالتوں کے سامنے پیش ہونے کے بجائے ارشد پیو کے دشمن بن گئے۔

ارشد پپو کو فروری 2012 کے وسط میں بلوچستان کی ایک جیل سے بری کیے جانے پر رہا کیا گیا تھا۔

اس کے خلاف فیض محمد، عرف ماما فیجو، ٹرانسپورٹر اور عزیر بلوچ کے والد کے قتل سے متعلق آخری مقدمہ تھا۔