پاکستان اور چین سی پیک کے تحت صنعتی تعاون کو تیز کرنے پر رضامند

اسلام آباد: پاکستان اور چین نے صنعتی تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشت کو چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیڈ) کی ترقی کے وژن کو سمجھنے کے لیے فریم ورک معاہدے کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

صنعتی تعاون سے متعلق ڈرافٹ فریم ورک معاہدے کے بارے میں ایک مشاورتی فورم سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ عاطف آر بخاری نے کہا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں حکومت کے قائدانہ کردار کی ضرورت تھی جبکہ دوسرے مرحلے میں انتظامیہ میں 180 ڈگری کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘سی پیک کے دوسرے مرحلے میں نجی شعبے و صنعتکاروں کو اولین کردار ادا کرنا ہوگا، حکومت کا کردار صرف سہولت کار کا ہوگا جو سرمایہ کاری کے لیے ساز گار ماحول اور کاروبار موافق موثر قانون سازی کا عمل جاری رکھے گی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘سی پیک صنعتی تعاون کا ڈرافٹ فریم ورک ایگریمنٹ لانگ ٹرم پلان سے مطابقت رکھتا ہے، ‘اس معاہدے کی منظوری سے پاکستان کے لیے صنعتوں کو ترقی دینے کے کئی مواقع میسر آئیں گے’۔

عاطف آر بخار ی نے کہا کہ سی پیک کے چار اقتصادی زونز رشکئی، علامہ اقبال، دھابیجی اور بوستان ترقی کے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین اور پاکستان کے مابین جغرافیائی قربت سے ان خطوں کو باہمی معاشی فائدہ کے لیے باہمی معاشی تسلط کو فروغ حاصل ہوگا۔

سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ فارینہ مظہر نے کہا کہ پاکستان اور چین صنعتی تعاون کے شعبے میں دستخط شدہ ایم او یو کو معاہدے میں تبدیل کرنے پر راضی ہو چکے ہیں، اس معاہدے کے تحت اقتصادی زونز کی آباد کاری و نجی شعبے میں تعاون کو فروغ ملے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک اقتصادی زونز میں گیس و بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔