کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کا جیتا ہوا الیکشن چوری ہوا تو آخر تک لڑیں گے، مریم نواز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے آزاد کشمیر میں الیکشن مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور اس کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اور کارکن جان گئے ہیں کہ الیکشن چوری کیسے روکنا ہے اور اگر الیکشن چوری ہوا تو آخر تک لڑیں گے۔

آزاد کشمیر کے علاقے چھتر کلاس میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ میری رگوں میں کشمیری ماں باپ کا خون ہے اور اس لحاظ سے میں آج اپنے گھر آئی ہوں، میں 12 سے 13 دن کے لیے کشمیر آئی ہوں اور کشمیریوں کے دکھ درد بھی بانٹوں گی

ان کا کہنا تھا کہ کشمیری چاہے سرحد کے اس پار ہو یا اس پار کشمیری ایک ہیں اور پاکستان آپ کے ساتھ ہے اور انشااللہ ان دکھوں، تکلیفوں اور پریشانیوں کو ایک نہ ایک دن ختم ہونا ہے اور چاہے وہ مقبوضہ کشمیر کے کشمیری ہوں یا آزاد کشمیر کے کشمیری ہوں، کشمیریوں کے دکھوں کو نواز شریف کی قیادت میں ختم ہونا ہے اور کشمیر کا بیٹا نواز شریف آپ کی سب جنگیں لڑے گا، آپ کی آزادی کی جنگ لڑے گا اور جیت کر آپ کی جھولی میں ڈالے گا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف، کشمیر کے حقوق اور اس کی آزادی کی جنگ لڑے گا، جانتی ہوں کشمیریوں کو نواز شریف بہت شدت سے یاد آرہا ہے، مجھے بھی وہ بہت شدت سے یاد آرہے ہیں۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ آج بھی ان کی تقریر نواز شریف سے شروع ہوتی ہے اور نواز شریف پر ختم ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ایک کرتا دھرتا کی جانب سے مجھے ختم کرنے کی دھمکی آئی تو نواز شریف ایک باپ کی حیثیت سے دکھ میں تھے لیکن کل انہوں نے کہا کہ بے شک میرے دل میں وہ بات ہے، ایک باپ کے طور پر تمہاری صحت اور سلامتی کے لیے ڈرتا ہوں لیکن تم کشمیر ضرور جاؤ۔

انہوں نے کہا کہ راجا فاروق حیدر، آزاد کشمیر کی مسلم لیگ (ن) اور کارکنوں کو سلام پیش کرتی ہوں، تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ دباؤ کے باوجود، کشمیریوں کا الیکشن چوری کرنے کی کوششوں کے باوجود مسلم لیگ (ن) آج چٹان بن کر کھڑی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو دو لوگ لوٹے ہوگئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو اُمیدوار نہیں مل رہے ہیں تو بتانا چاہتی ہوں کہ جب مسلم لیگ (ن) کی درخواستیں طلب کی تو ایک، ایک حلقے سے 10،10 اور 20،20 تک درخواستیں موصول ہوئیں۔

وفاقی وزرا کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آپ کے پاس اتنے ہی اُمیدوار ہیں تو پھر مسلم لیگ (ن) کے دو اُمیدواروں کو توڑنے کی ضرورت کیوں پیش آئی

ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف جیسے عوامی اور منتخب وزیراعظم، جن کی دہلیز پر بھارتی وزرائے اعظم آتے ہیں اور ایک ایسا سلیکٹڈ جو ووٹ چوری کرکے آتا ہے، اس کی دور میں بھارت کو اتنی ہمت ہوتی ہے کہ اس کی حیثیت بھی بدل دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کی حیثیت بدل دی گئی تو وہ کہتا ہے میں کیا کروں، میں کیا کرسکتا ہوں، تو کیا 22 کروڑ عوام آپ سے یہ کچھ سننے کے لیے بیٹھے ہیں کہ تم کشمیر گنوا کر آجاؤ اور لوگوں سے کہو کہ میں کیا کرسکتا ہوں۔

وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں کیا کروں، یہ کہہ سکتا ہوں کہ مودی میرا فون نہیں اٹھاتا، میں یہ رونا رو سکتا ہوں کہ امریکا کا صدر مجھے نہیں بلاتا اور میں قوم کو صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ کشمیر کے بدلے قوم دو منٹ کی خاموشی اختیار کرے’۔

انہوں نے کہا کہ کیا یہ سننے کے لیے تمہارے محسنوں نے آر ٹی ایس بند کرکے 22 کروڑ عوام کے سر پر بٹھایا تھا اور آپ نے کہا تھا کہ کشمیر کا بھارت کی جھولی میں جانے کا سوگ ہر ہفتے منایا کریں گے لیکن وہ بات کہاں گئی، دو منٹ خاموشی کا کہا تھا، وہ خاموشی آج بھی آپ نے اختیار کرلی ہے۔

‘مسلم لیگ (ن) کا جیتا ہوا الیکشن چوری ہوا تو آخر تک لڑیں گے’

مریم نواز نے کہا کہ جو لوگ کشمیر کا ووٹ چوری کرنے کے لیے نظریں لگائے بیٹھے ہیں، کان کھول کر سن لو! مسلم لیگ (ن) وہ مسلم لیگ (ن) نہیں رہی، مسلم لیگ (ن) کو آپ کے حلق سے چوری شدہ سیٹیں نکالنے کا ہنر آگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے جوان، یوتھ ونگ، کارکن، اراکین قومی اسمبلی، ایم ایل ایز اور ایم پی ایز سب جان گئے ہیں کہ ووٹ چوری کو کس طرح سے روکنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈسکہ کا الیکشن یاد ہے نا، جس نے 2018 میں آر ٹی ایس بیٹھا کر عوام کا الیکشن چوری کرلیا، آج تین سال بعد بھی اس کو الیکشن چوری کرنے کی ضرورت پیش آرہی ہے، نواز شریف کی آواز ٹی وی پر بند کرنے کی ضرورت پیش آرہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے الیکشن میں انہوں نے ہمارے 7 لوگ توڑے اور وہ لوٹے ہوگئے تو پہلی دفعہ دیکھا کہ سب الیکٹیبلز تھے لیکن وہ سب ہار گئے، ٹھیک ہے مسلم لیگ (ن) نہیں جیتی لیکن تمہارے لوٹے بھی ہار گئے، حافظ حفیظ الرحمٰن طبعاً صلح جو شخص ہے لیکن یہاں راجا فاروق حیدر ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ اگر تم نے راجا فاروق حیدر کا جیتا ہوا الیکشن، کشمیریوں کا جیتا ہوا الیکشن، مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کا جیتا ہوا الیکشن، چوری کیا تو یاد رکھیں، راجا فاروق حیدر، مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر اور مریم نواز شریف آخری حد تک لڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ راجا فاروق حیدر سے جیتنا کوئی آسان کام نہیں ہے، انہوں نے پہلے کہہ دیا تھا کہ اگر میرا الیکشن چوری کرنے کی کوشش کی تو پوری طرح مزاحمت کروں گا اور اگر چوری ہوا تو شاہراہ دستور پر کیمپ لگا کر بیٹھ جاؤں گا۔

راجا فاروق حیدر کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ اگر آپ شاہراہ دستور پر بیٹھ گئے تو میں بھی آپ کے ساتھ وہاں احتجاج میں بیٹھوں گی۔

‘کشمیر بھارت کی جھولی میں پھینکنے کیلئے عمران خان کی منظوری شامل تھی’

بعد ازاں مظفرآباد میں مسلم لیگ (ن) کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ کشمیر کا افسوس ناک واقعہ ہوا، نااہل اور نالائق عمران خان نے کشمیر کو بھارت کی جھولی میں پھینک دیا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر چور عمران خان جانتا تھا کہ کشمیر کی بیٹی اگر کشمیر کا مقدمہ لے کر مظفر آباد پہنچ گئی تو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی اس لیے کوٹ لکھپت جیل میں والد نواز شریف کے سامنے گرفتار کروایا۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر فروش، کشمیر چور جانتا تھا کہ اگر مریم نواز اور کشمیر والے اکٹھے ہوگئے تو عمران خان کو پورے پاکستان، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔

مریم نواز نے کہا کہ اسی طرح یہ بزدل انسان امریکا گیا تو ٹرمپ کشمیر کے معاملے پر ثالثی کرے گا اور جب واپس آیا تو قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کہتا ہے، ایسا لگتا ہے ورلڈ کپ جیت کر آیا ہوں، کہاں ہے وہ ورلڈ کپ جو جیت کر آئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کیا کشمیر کو بھارت کی جھولی میں پھینک کر آنا تمہارا ورلڈ کپ تھا، کیا مقبوضہ کشمیر کے شہیدوں کا مقدمہ ہار کر آنا تمہارا ورلڈ کپ تھا؟ مظفر آباد والے اور کشمیر والے آج پوچھ رہے ہیں، کہاں ہے وہ ورلڈ کپ؟ جب تم کشمیریوں اور پاکستان کی شہ رگ کاٹ کر آئے تھے تو اس نالائق اور جعلی وزیراعظم سے قوم کو سننے کو ملا تھا کہ اب کشمیر چلاگیا ہے تو میں کیا کرسکتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کا کوئی نمائندہ ہوتا، قوم کے ووٹوں سے کوئی جیت کر آتا تو وہ کہتا کہ میں کیا کرسکتا ہوں۔

مریم نواز نے کہا کہ قوم کے راز قوم کو پتا نہیں ہوتے باقی سب کو پتا ہوتے ہیں، قومی راز ایک دن قوم کے سامنے اچھی طرح آئے گا، میں جانتی ہوں کہ کشمیر کو بھارت کی جھولی میں ڈالنے کے لیے عمران خان کی منظوری شامل تھی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر فروش اور کشمیر چور عمران خان اب آزاد کشمیر آرہا ہے، افسوس ہے کہ بھارت 73 برسوں میں آمروں اور منتخب وزرائے اعظم کے دور میں جو نہیں کرسکا لیکن بھارت کو کشمیر عمران خان کے دور میں لینے کی توفیق کیوں ہوئی۔

وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو تم نے کیا دیا ہے جو کشمیر کے عوام سے ان کی اچھی زندگی بھی چھیننے آرہے ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تباہی اور بربادی کا سفر جو 2018 میں شروع ہوا تھا ابھی کوہالہ کے اس پار ہی ہے، کیا مظفر آباد اور کشمیر نہیں چاہتا کہ بربادی کا سفر یہاں بھی آئے۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کشمیر کے عوام اور مسلم لیگ (ن) کے کارکن ڈسکہ کے عوام کی طرح ووٹ پر پہرہ دینا اور ان کو اپنے ووٹ پر ڈاکا ڈالنے کی اجازت نہیں دو اور ان سے اپنی جیت چھین کر لے لو۔