پاکستان کے ساتھ مشترکہ مفادات افغانستان سے بہت آگے ہیں، امریکی محکمہ خارجہ

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے معاملات کے حوالے سے امریکا، پاکستان کو ‘مددگار اور تعمیری شراکت دار’ سمجھتا ہے لیکن دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات اس سے بہت آگے ہیں۔

 نیڈ پرائس نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام امریکا اور پاکستان کے مشترکہ مفاد میں ہے اور ہماری اجتماعی کوششوں سے وہاں امن و سلامتی کی کچھ جھلک دکھائی دے گی۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے مشترکہ مفادات افغانستان سے کہیں زیادہ ہیں جس میں انسداد دہشت گردی کے بڑے پیمانے پر اقدامات اور عوامی سطح پر روابط مضبوط کرنا شامل ہیں۔

نیڈ پرائس نے کہا کہ ‘پاکستان، کئی امور میں امریکا کا اہم شراکت دار ہے’۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے تمام پڑوسیوں کو ملک میں پائیدار سیاسی تصفیے اور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان سیز فائر کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ افغانستان کے پڑوسی وہاں تعمیری کردار ادا کریں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور ملک خانہ جنگی کے دہانے پر ہے، طالبان کی پرتشدد کارروائیوں کے بعد افراتفری میں اضافہ ہو رہا ہے۔

موجودہ صورتحال پاک ۔ امریکا تعلقات کو ممکنہ طور پر نئی سمت دینی جارہی ہے جو اس بات سے بھی واضح ہوئی جب وزیر اعظم عمران خان نے امریکا نے کوئی فوجی بیس دینے اور افغانستان میں کسی قسم کی کارروائی کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دینے کے امکان کو یکسر مسترد کردیا۔

وزیر اعظم نے گزشتہ ماہ ‘ایچ بی او’ کو انٹرویو میں واضح طور پر کہا تھا کہ ‘پاکستان، افغانستان کے اندر کسی بھی طرح کی کارروائی کے لیے اپنے کسی بھی اڈے اور اپنی سرزمین کو امریکا کو استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گا’۔

انہوں نے یہی بات امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ میں اپنے مضمون میں بھی کہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اس کے متحمل نہیں ہوسکتے، ہم پہلے ہی بھاری قیمت ادا کرچکے ہیں، اگر امریکا 20 سال بعد بھی تاریخ کی سب سے طاقتور فوجی مشین کے ساتھ افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکا تو یہ امریکا ہمارے ملک کے اڈوں سے کیسے کرسکے گا؟’

حال ہی میں وزیر اعظم نے چین کے انگریزی چینل ‘چائنا گلوبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک’ کو انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ امریکا اور مغربی طاقتوں کی یہ بہت ‘نامناسب’ بات ہے کہ وہ پاکستان جیسے ممالک پر اس بات کے لیے دباؤ ڈالیں کہ وہ کسی ایک کا انتخاب کریں اور چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں کمی لائیں