شریف فیملی کی مشکلات میں مزید اضافہ، زمین پر قبضے کے الزام میں جواب طلب

لاہور: عدالت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور نائب صدر مریم نواز سے جاتی امراء میں 4 ہزار ایکڑ اراضی پر غیر قانونی قبضے کے الزام میں جواب طلب کرلیا ہے۔

لاہور کی سینیئر سول جج فوزیہ سائرہ نے شریف فیملی کے خلاف جاتی امراء میں 4 ہزار ایکڑ اراضی پر غیر قانونی قبضہ کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار ڈاکٹر عبد الرؤف کا موقف ہے کہ وہ پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، ان کے آباؤ اجداد نے 1911 میں اس وقت کی گورنمنٹ سے جاتی امرا کی اراضی خریدی تھی، زمین کا اصل مالک پیر بخش ابھی زندہ ہے جس کے آباؤ اجداد نے زمین خریدی، شریف فیملی نے جاتی امراء میں ہمارے آباؤ اجداد کی طرف سے ملنے والی 4 ہزار ایکٹر زمین پر غیر قانونی طور پر قبضہ کیا، ہمارے پاس تمام دستاویزی ثبوت موجود ہیں جو عدالت کا حصہ بنائے جا سکتے ہیں۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ہر شہری کا آئینی و قانونی حق ہے کہ اسے قبضہ مافیاز سے بچا کر اس کی زمین واگزار کروائی جائے، ہمیں زمین کی مد میں جو نقصان اٹھانا پڑا عدالت اس کا 5 ہزار کروڑ روپے بطور کرایہ ادا کرنے کا حکم دے اور عدالت متعلقہ تھانے کے ایس ایچ کو زمین کو واگزار کرانے کا حکم بھی دے۔

درخواست گزار کا موقف سننے کے بعد عدالت نے جاتی امرا چار ہزار ایکڑ زمین پر مبینہ قبضے سے متعلق جواب طلب کیا ہے اور 20 اگست تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔