حکومت کا بحریہ ٹاؤن کو ریلیف دینے کے لیے سپریم کورٹ کو خط

پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی تحریک انصاف حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کو کراچی میں زمین کے بدلے 460 ارب روپے کی اقساط جمع کرانے میں ریلیف دیا جائے۔
وزارت قانون نے اٹارنی جنرل کے دفتر کے ذریعے سپریم کورٹ میں ایک دستاویز جمع کراتے ہوئے کہا ہے کہ بحریہ ٹاؤن سے ہر تین ماہ بعد وصول کی جانے والی قسط نہ لی جائے بلکہ یہ رقم اُس کو کاروبار میں لگانے کی اجازت دی جائے اور اس کا سود حاصل کیا جائے تاہم سات برس بعد ملک ریاض کی کمپنی سے مکمل رقم واپس لینے کے فیصلے پر حکومت کو اعتراض نہیں۔

عدالت میں جمع کی گئی دستاویز میں اٹارنی جنرل کے دفتر نے کہا ہے کہ ایسا وزارت قانون کے کہنے پر کیا گیا ہے اور وزارت قانون کو اس کی ہدایت وزیراعظم کے دفتر نے کی ہے۔
دستاویزات میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن نے مارچ کے تیسرے ہفتے میں درخواست کی تھی جس پر نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی نے دو دن بعد اپنی رائے دی اور پھر نو اپریل کو وزیراعظم کے دفتر نے وزارت قانون سے اس پر کام کے لیے کہا۔

وزارت قانون نے اٹارنی جنرل کے دفتر کے ذریعے کراچی بحریہ ٹاؤن کیس کا فیصلہ اور دیگر ریکارڈ منگوایا اور اب عدالت سے استدعا ہے کہ چونکہ ملک ریاض کی کمپنی ملک کے ایک بڑی کنسٹرکشن فرم ہے تو اسے ریلیف دیا جائے جو قومی مفاد میں ہوگا۔
خیال رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے چار برس قبل اپنے تین فیصلوں میں‌پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کی جانب سے اپنے کراچی، راولپنڈی اور مری میں‌بحریہ ٹاؤن رہائشی منصوبوں‌کے لیے زمین کے حصول میں‌بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں‌کی نشاندہی کی تھی.
بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے کراچی میں‌سندھ حکومت کی ملی بھگت سے ہزاروں‌ایکڑ سرکاری اراضی بحریہ ٹاؤن کے حوالے کرنے کے فیصلے پر نظرثانی درخواست میں قرار دیا کہ سولہ ہزار ایکڑ رقبے کی ملک ریاض 460 ارب روپے قیمت ادا کریں اور یہ سہ ماہی اقساط کی صورت میں سات برس تک دی جائے.