سابق سفارتکاروں نے وزیراعظم کی سفارتی مشنر پر تنقید کو مایوس کن قرار دیدیا

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے پاکستانی سفارتی مشنز اور سفارتکاروں کی کارکردگی پر تنقید پر سابق سینئر سفارتکاروں نے وزیراعظم کے اقدام کو نامناسب اور مایوس کن قرار دیا ہے۔ پانچ مئی کو بیرون ملک پاکستانی سفارتکاروں سے آن لائن خطاب میں وزیراعظم عمران نے کہا کہ سفارتخانوں کا نو آبادیاتی دور والا رویہ قبول نہیں کیا جائے گا، سفارتخانوں کے عملے سے بات چیت کے لیے کوئی سسٹم یا ہیلپ لائن موجود نہیں ہے، جبکہ عام پاکستانیوں کو سفارتخانے بھی جانے کی اجازت نہیں ہے، سفارتخانوں میں ایسا رویہ نہیں ہوتا۔

وزیراعظم کی تنقید پر ردعمل میں پاکستان کے سابق سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو معلوم ہی نہیں کہ سفارتخانہ کام کیسے کرتا ہے، وزیراعظم کی جانب سے سفارتکاروں کی اس طرح سر عام تذلیل کرنے سے دفتر خارجہ کا حوصلہ مزید پست ہو جائے گا۔ سابق سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے نوآبادیاتی مائنڈ سیٹ کے الزام کو مسترد کرتے کہا کہ کورونا وائرس کے دوران پاکستانی سفارتخانے کا عملہ ووہان میں پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ تھا اور اس نے نہ صرف وہاں پر پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی مدد کی بلکہ ان میں کھانا بھی تقسیم کیا۔

تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ سفارتخانوں میں کونسلر سروس کے حوالے سے جو مسائل ہیں انہیں ایک مربوط انداز میں حل کرنا چاہیے، ایسے مسائل ٹوئٹس کے ذریعے حل نہیں ہو سکتے۔ سابق سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی وزارت خارجہ اور سفارتکاروں پر تنقید نامناسب ہے، کمیونٹی کی سروس عام طور پر دیگر اداروں کے حلقہ اختیار میں آتی ہے، جو پاسپورٹ، قومی شناختی کارڈ اور قونصلر تصدیق کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ اور دفتر خارجہ نے ہمیشہ خدمات سرانجام دی ہیں، یہ تعاون اور حوصلہ افزائی کے حقدار ہیں، عوام میں ان پر تنقید بہترین سے بہترین افراد کی حوصلہ شکنی ہو گی، پاکستان کو کام کرنے والے اداروں کی ضرورت ہے، مثبت تجاویز کے ساتھ ایک ٹاسک فورس قائم کی جائے۔ سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی کے مطابق پاکستان فارن سروس کو کئی دہائیوں سے نظر انداز کیا جا رہا ہے، اس ادارے کو نہ صرف وسائل کی کمی بلکہ سیاسی فالج کا بھی سامنا ہے، ہمیں سفارتکاری کی استعداد اور وسائل بڑھانے کے علاوہ اپنی خواہشات اور ممکنات میں توازن رکھنے کی ضرورت ہے۔

سفرا سے خطاب سے ایک روز دفتر خارجہ نے وزیر اعظم کے حکم پر سعودی عرب سے پاکستانی سفیر سمیت سفارتخانے کے عملے کے 6 ارکان کو واپس بلانے کی تصدیق کی، انہیں واپس بلانے کی وجہ ان کی غیر تسلی بخش کارکردگی کو قرار دیا گیا۔