این اے75 ڈسکہ :ن لیگ ، پی ٹی آئی کےووٹرز کس بنیاد پر اپنی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں؟

این اے 75 ڈسکہ میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے ووٹرز اپنی جماعتوں کو کس بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں؟ گیلپ پاکستان اور پلس کنلسٹنٹ کے سرویز میں سامنے آگیا۔

گیلپ پاکستان، پلس کنسلٹنٹ کی جانب سے کیا گیا سروے این اے 75 ڈسکہ کےمجموعی طورپر 2600 سے زائد رجسٹرڈ ووٹرزسے کیا گیا، یہ سروے 2 مارچ سے 9 مارچ 2021 کے درمیان کیے گئے۔

گیلپ پاکستان کے سروے میں ن لیگ کے سپورٹرز نے ووٹ دینے کی پہلی وجہ علاقے میں ترقیاتی کام کو قرار دیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ووٹرز نے پارٹی کا اچھا ہونے کو ووٹ دینے کی اہم وجہ بتایا۔

پلس کنسلٹنٹ کے سروےمیں ترجیحات میں فرق نظر آیا جس کے تحت ن لیگ کے ووٹرز نے پہلی وجہ پارٹی رہنماؤں کے اچھا ہونے اور پی ٹی آئی کے ووٹرز نے کرپشن کو کنٹرول کرنے کو پارٹی کو ووٹ دینے کی اہم وجہ کہا۔

گیلپ سروے
گیلپ پاکستان کے سروے میں دیکھا گیا کے ڈسکہ سے جن افراد نے خودکو ن لیگ کا ووٹر بتایا ان میں سے 36 فیصد نے علاقے میں ترقیاتی کام کروانے، 26 فیصد نے غریبوں کی مدد کرنے، 15 فیصد نے پارٹی کے اچھے ہونے، 12 فیصد نے پارٹی کے مہنگائی کو کنٹرول کرنے، 9 فیصد نے ن لیگ کے لیڈران کو پسند کرنے، 9 فیصد نے بڑوں کی جانب سے پارٹی کو سپورٹ کرنے، 8 فیصد نے پارٹی کی نظریے، جبکہ 8 فیصد نے ہمیشہ ن لیگ کو ووٹ دینے کو اہم وجہ کہا۔

اس کے برعکس گیلپ پاکستا ن کے سروے میں جن افراد نےخود کو پی ٹی آئی کا ووٹر کہا اس میں سے 25 فیصد نے پارٹی کے اچھا ہونے کو، 21 فیصد نے لیڈران کے اچھا ہونے، 21 فیصد نے پارٹی کے قابل اعتبار ہونے، 14 فیصد نے پارٹی کے نظریےجبکہ 14 فیصد نے ہی پارٹی کے کرپشن کیخلاف اقدامات کو ووٹ دینے کی اہم وجہ قرار دیا۔

سروے میں شامل 10 فیصد ووٹرز نے پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کی وجہ علاقے میں ترقیاتی کام کروانے، 9 فیصد نے پارٹی کو ایک چانس دینے جبکہ 8 فیصد نے بڑوں کے پارٹی کو سپورٹ کرنے کو ووٹ دینے کی اہم وجہ کہا۔

پلس کنسلٹنٹ سروے پلس کنسلٹنٹ کے سروے کو دیکھا جائے تو اس میں گیلپ پاکستان کے مقابلے میں ووٹ دینے کی ترجیحات میں کافی تبدیلی نظر آئی۔

اس سروے میں خود کو ن لیگ کا ووٹر بتانے والوں میں 19 فیصد نے پارٹی رہنماؤں کے اچھا ہونے کو،14 فیصد نے مہنگائی کو کنٹرول کرنے، 9 فیصد نے فیملی ممبر ان کے جماعت کو سپورٹ کرنے، 6 فیصد نے علاقے میں ترقیاتی کام کروانے، 3 فیصد نے پارٹی کی جانب سے ملک میں اچھے کاروباری حالات پیدا کرنے، 2 فیصد نے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے، ایک فیصد نے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ایک فیصد نے کرپشن کے خلاف اقدامات کو ن لیگ کو ووٹ دینے کی اہم وجہ بتایا۔

پلس کنسلٹنٹ کے سروے میں پی ٹی آئی کے 25 فیصد ووٹرز نے پارٹی کی جانب سے کرپشن کو کنٹرول کرنےکے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو ووٹ دینے کی سب سے اہم وجہ قرار دیا، 7 فیصد نے احساس پروگرام، 6 فیصد نے پارٹی رہنماؤں کے اچھا ہونے، 4 فیصد نے فیملی ممبر ان کے جماعت کو سپورٹ کرنے، 3 فیصد نے پارٹی کے اچھا ہونے، 3 فیصد نے ترقیاتی کام کروانے ، ایک فیصد نے کمیونٹی کے جماعت کو سپورٹ کرنے، ایک فیصد نے مہنگائی کو قابو کرنے، ایک فیصد نے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے جبکہ 1 فیصد نے روزگار فراہم کرنے کو پی ٹی آئی کوووٹ دینے کی اہم وجہ کہا۔

واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے این اے 75 ڈسکہ کے الیکشن کو بدنظمی کی بنا پر کالعدم قرار دے دیا تھا اور حلقے میں 10 اپریل کو دوبارہ پولنگ کا حکم دیا ہے جب کہ تحریک انصاف کے امیدوار نے الیکشن کمیشن کےفیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔