آئین میں خفیہ ووٹ کا ذکر ہے “خفیہ کیمروں ” کا نہیں

لاہور: چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب سے قبل ایوان بالا سے خفیہ کیمروں کی موجودگی نے سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا ہے ایسے میں مریم نواز بھی میدان میں آگئیں اور بڑا بیان جاری کردیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک بار پھر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ عادی، سند یافتہ ووٹ چور ہر بار ووٹ چوری کا نیا طریقہ ڈھونڈ کر لاتا ہے، اس بار کیمرے لگا کر اپنے ہی ارکان کی جاسوسی کرنی پڑگئی، ایسی تاریخی ذلت،توبہ۔

مریم نواز نے کہا کہ سپریم کورٹ سے منہ کی کھائی، آئینی ترمیم میں ناکام رہے اور اب آر ٹی ایس اور “ڈسکہ دھند” کے بعد سینیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے آخری جنگ ہار چکے۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ صدارتی آرڈیننس ردی کا ٹکڑا بن گیا تو خفیہ کیمروں والے مستری لے آئے، آئین میں خفیہ ووٹ کا ذکر ہے خفیہ کیمروں کا نہیں، ووٹ چورو شرم کرو اور کرسی چھوڑو۔

واضح رہے کہ آج صبح مسلم لیگ ن کے مصدق ملک اور پیپلز پارٹی کے مصطفیٰ نواز کھوکھر نے سینیٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لئے بنائے گئے بوتھ میں خفیہ کیمروں کے نصب ہونے کا انکشاف کیا تھا اور مبینہ خفیہ کیمروں کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کی تھی۔

مبینہ خفیہ کیمروں کی برآمدگی کے ساتھ ہی اپوزیشن اور حکومت کے درمیان لفظی گولہ باری کا سلسلہ شروع ہوا جوکہ اب تک جاری ہے، حکومتی وزرا اسے اپوزیشن کی سازش قرار دے رہی ہے جبکہ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کی چال ہے کیونکہ حکومت کو اپنے اراکین پر اعتماد نہیں ہے اور یہ اس کا گھناؤنہ فعل ہے۔

خفیہ کیمروں کی برآمدگی کے بعد سیکریٹری سینیٹ قاسم صمد نے پولنگ بوتھ میں خفیہ کیمروں کے معاملے کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیتے یقین دلایا کہ کیمرے کے معاملے کی مکمل شفاف انکوائری ہوگی۔

وفاقی وزیرفواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرسیکریٹری سینیٹ کی جانب سے کیمروں پر کمیٹی بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا اس سے پہلے مصدق ملک ،مصطفی نواز وائرنگ کو کیمرے سمجھ کر اکھاڑ دیں۔