ماضی کے غلط فیصلوں سے معیشت کمزور ہوتی رہی، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی بھرپور سہولیات موجود ہیں تاہم غلط فیصلوں سے ملک کی صنعتی ترقی کو نقصان پہنچا۔
وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے دیامر بھاشا ڈیم کے کام کا جائزہ لیا۔ وزیراعظم کو دیامیر بھاشا ڈیم پر کام کی پیشرفت سے متعلق بریفنگ دی گئی اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل فیض حمید اور وفاقی وزیر فیصل واوڈا بھی موجود تھے۔

بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے چلاس میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم تیسرا بڑا ڈیم ہے، پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی بھرپور سہولیات موجود ہیں لیکن غلط فیصلوں سے ملک کی صنعتی ترقی کو نقصان پہنچا، دریاؤں سے بجلی بنانے کے بجائے تیل پر بجلی بنانے کو ترجیح دی، مہنگی بجلی کی وجہ سے صنعتوں پر اثر پڑا جب کہ ہمیں خدشہ ہے مستقبل میں سیلاب جیسے صورتحال کا سامنا نہ ہو۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بد قسمتی رہی کہ شارٹ ٹرم فیصلے ہوئے، ہم نے ماضی میں غلط فیصلے کیے جس کے باعث معیشت کمزور ہوتی رہی، ہماری کرنسی پر روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے دباؤ آیا، 20ارب روپے کا خسارہ ہمیں ورثے میں ملا، جب رقوم باہر جاتی ہیں تو کرنٹ اکاوَنٹ خسارہ بڑھتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ انسانوں پر سرمایہ کاری، انصاف اور قانون پر عمل درآمد سےترقی ہوتی ہے، وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جومشکل فیصلے کرتی ہیں، چین کی کامیابی طویل المدتی منصوبے بنانا ہے، چین نے 30،30 سالہ منصوبہ بندی کررکھی ہے۔ انہوں نے مزید کاہ کہ کورونا کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور اشیا باہر سے منگوانےکے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم باجوہ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم پر موبلائزیشن تاریخی سنگ میل ہے، وزیراعظم آج میگا منصوبے پر کام کا آغاز کریں گے، منصوبے سے 64 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوسکے گا اور ڈیم سے 12 لاکھ ایکڑ زمین سیراب ہوسکے گی جب کہ منصوبے سے 4500 میگاواٹ سستی بجلی مل سکے گی۔

کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی بھرپور سہولیات موجود ہیں تاہم غلط فیصلوں سے ملک کی صنعتی ترقی کو نقصان پہنچا۔
وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے دیامر بھاشا ڈیم کے کام کا جائزہ لیا۔ وزیراعظم کو دیامیر بھاشا ڈیم پر کام کی پیشرفت سے متعلق بریفنگ دی گئی اس موقع پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل فیض حمید اور وفاقی وزیر فیصل واوڈا بھی موجود تھے۔

بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے چلاس میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم تیسرا بڑا ڈیم ہے، پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی بھرپور سہولیات موجود ہیں لیکن غلط فیصلوں سے ملک کی صنعتی ترقی کو نقصان پہنچا، دریاؤں سے بجلی بنانے کے بجائے تیل پر بجلی بنانے کو ترجیح دی، مہنگی بجلی کی وجہ سے صنعتوں پر اثر پڑا جب کہ ہمیں خدشہ ہے مستقبل میں سیلاب جیسے صورتحال کا سامنا نہ ہو۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بد قسمتی رہی کہ شارٹ ٹرم فیصلے ہوئے، ہم نے ماضی میں غلط فیصلے کیے جس کے باعث معیشت کمزور ہوتی رہی، ہماری کرنسی پر روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے دباؤ آیا، 20ارب روپے کا خسارہ ہمیں ورثے میں ملا، جب رقوم باہر جاتی ہیں تو کرنٹ اکاوَنٹ خسارہ بڑھتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ انسانوں پر سرمایہ کاری، انصاف اور قانون پر عمل درآمد سےترقی ہوتی ہے، وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جومشکل فیصلے کرتی ہیں، چین کی کامیابی طویل المدتی منصوبے بنانا ہے، چین نے 30،30 سالہ منصوبہ بندی کررکھی ہے۔ انہوں نے مزید کاہ کہ کورونا کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور اشیا باہر سے منگوانےکے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم باجوہ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم پر موبلائزیشن تاریخی سنگ میل ہے، وزیراعظم آج میگا منصوبے پر کام کا آغاز کریں گے، منصوبے سے 64 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوسکے گا اور ڈیم سے 12 لاکھ ایکڑ زمین سیراب ہوسکے گی جب کہ منصوبے سے 4500 میگاواٹ سستی بجلی مل سکے گی۔