’تدفین گھروں میں کرنا پڑے گی‘ : بھارت میں مسلمانوں‌ کے قبرستانوں پر قبضے

بھارتی ریاست مدھیا پردیش کے شہر بھوپال میں قبرستانوں کے حوالے سے سروے کیا گیا جس میں حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے۔ ریاستی دارالحکومت بھوپال میں عوام کی فلاح کے لیے وقف کی گئی زمینیں سرکاری ہیں جن میں سے بڑی تعداد قبرستانوں کی بھی ہے۔

بھوپال میں قبرستانوں کے لیے مختص کی گئی زمینوں پر قبضہ ہوچکا ہے جہاں قبضہ مافیا نے عمارات تعمیر کیں اور وہاں اب شہری رہائش پذیر ہیں۔مدھیا پردیش کے علما بورڈ کو اس بات کی اطلاع موصول ہوئی کہ ریاست میں اب تدفین کے لیے جگہ کم پڑنے لگی ہے جس کے بعد انہوں نے ایک سروے کروایا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں کسانوں کی حمایت پر ششی تھرور سمیت 7 صحافیوں پر بغاوت کے مقدمات

سروے میں یہ خوفناک انکشاف سامنے آیا کہ بھوپال میں 187 مقامات کو قبرستانوں کے لیے مختص کیا گیا تھا، جن میں سے بیشتر پر اب قبضہ ہوچکا ہے اور اب صرف 23 قبرستان ہی بچے ہیں۔مدھیا پردیش علما بورڈ کے رکن قاضی انس علی نے بتایا کہ ’ہماری ٹیم نے قبرستانوں کے حوالے سے سروس کیا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ بھوپال میں قبرستانوں کی تعداد 23 رہ گئی ہے، بقیہ پر قبضہ ہوچکا یا وہ بند ہیں‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر یہی حال رہا تو مسلمانوں کو اپنے مردوں کی تدفین گھروں میں ہی کرنا پڑے گی‘۔علما بورڈ کے سروے کے بعد بھوپال کے شہری مزید خوفزدہ ہوگئے ہیں اور انہیں فکر ہے کہ اگر خدا نخواستہاُن کا کوئی پیارا دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو وہ اُس کی تدفین کہاں کریں گے۔