قومی اسمبلی کسی قبضہ گروپ کو تحفظ نہیں دے سکتی، بابر اعوان

اسلام آباد: مشیر پارلیمانی امور بیرسٹر بابر اعوان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسا قانون و ضابطہ نہیں جو کسی بھی ممبر اسمبلی کو سرکاری زمین پر قبضے کی اجازت دیتا ہو، اسمبلی کسی قبضہ گروپ کو تحفظ نہیں دے سکتی۔

قومی اسمبلی میں (ن) لیگ کے رکن افضل کھوکھر کی تحریک استحقاق کا جواب دیتے ہوئے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایسا قانون و ضابطہ نہیں جو کسی بھی ممبر اسمبلی کو سرکاری زمین پر قبضے کی اجازت دیتا ہو، جب کوئی معاملہ کسی عدالت میں زیر سماعت ہو اس کے لئے تحریک استحقاق یہاں پیش نہیں ہوسکتی، حکم امتناع کا حوالہ دیا گیا، وہ خارج ہوچکا تھا۔

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ کھوکھر پیلس 45 کینال سرکاری زمین پر تھا، جس کی مالیت ڈیڑھ ارب روپے ہے، اور اس کے خلاف رات کے اندھیرے میں کارروائی نہیں دن دیہاڑے کی گئی، پنجاب میں 10 ایسے قبضہ گروپ ہیں جن کے سامنے کوئی چوں نہیں کرسکتا تھا، لاہور میں 80 کینال زمین واگزار کرائی ہے جس کی قیمت 3 ارب روپے ہے، یہ اسمبلی کسی قبضہ گروپ کو تحفظ نہیں دے سکتی۔

افضل کھوکھر کا کہنا تھا کہ قبضے والی زمین پر بہن اور بیٹیوں کے گھر نہیں بنائے جاتے، میری بیٹیوں اور بہنوں کو گھر سے نکالا گیا، جو زمین لی گئی ہم اس کے چوتھے خریدار ہیں، ثاقب نثار نے بھی انکوائری کرائی تھی ہم اس میں سرخرو ہوئے۔

لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اگر بنی گالا کا گھر 12 لاکھ میں ریگولرائز کیا گیا تو ہمارا کیا قصور ہے؟، میں نے سرکاری فنڈز سے مشینیں لے کر نہیں دیں، بنی گالا اور زمان پارک کی بھی انکوائری کرائی جائے، یہ جو بھی کرلیں ہم اپنی وفاداریاں تبدیل نہیں کریں گے۔