کوروناوائرس کی نئی قسم کی عام علامات بھی سامنے آگئیں

دنیا بھر میں کورونا کی جینیاتی تبدیلی کے باعث وائرس کی نئی اقسام پیدا ہورہی ہیں، حالیہ ہفتوں برطانیہ، جاپان، جنوبی افریقا اور برازیل میں نئی قسمیں دیکھی گئیں۔

ماہرین نے اب وائرس کی نئی قسم کی علامات بھی پہچان لی ہے۔ کورونا کی نئی اقسام وائرس میں میوٹیشن کے عمل کے نتیجے میں پیدا ہورہی ہیں، خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ دیگر ممالک میں مختلف نوعیت کے ساتھ نمودار ہوں گی۔ جبکہ بعض سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ تغیرپذیر کورونا میں اس کی اصل طاقت نہیں ہوتی۔

برطانیہ کے آفس فار نیشنل اسٹیٹکس (او این ایس) میں ہونے والی تحقیق میں کورونا کی نئی قسم کی علامات شناخت کی گئی۔ محققین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں پائی جانے والی کووڈ قسم میں مسلز میں تکلیف، گلے میں سوجن، تھکاوٹ اور کھانسی جیسی علامات عام نظر آرہی ہیں۔ یہ نتیجہ کورونا کے پرانے اور نئے مریضوں پر مشاہدے سے نکالا گیا۔

تحقیق کے مطابق کورونا کی نئی قسم میں سونگھنے اور چکھنے کی حس سے محرومی کے امکانات کم ہوتے ہیں لیکن پھر بھی اسے 3 بنیادی نشانیوں میں شمار کیا جاتا ہے جن میں جسمانی درجہ حرارت، مسلسل کھانسی اور سونگھنے یا چھکنے سے محرومی شامل ہیں۔ ان میں یہ کوئی ایک علامت نئی قسم سے متاثر مریض میں ضرور نمودار ہوتی ہے۔

اس ریسرچ کے لیے ماہرین نے نومبر کے وسط سے جنوری کے وسط کے درمیان مریضوں کی علامات کا تجزیہ کیا۔ تحقیق میں کورونا اور اس کی نئی قسم سے متاثر افراد کو شامل کیا گیا اور دونوں کی علامات پر غور ہوا۔

طبی تحقیق میں دریافت ہوا کہ دیگر علامات کے مقابلے میں سونگھنے اور چکھنے کی حس سے محرومی نئی قسم میں 16 فیصد تھی جبکہ کورونا کی اصل شکل میں یہ شرح 18 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ دونوں گروپس میں سردرد، سانس لینے میں مشکلات، ہیضہ یا الٹیوں کی شرح میں کوئی فرق نظر نہیں آیا۔