کورونامریضوں کیلئے عالمی ادارہ صحت کی نئی گائیڈلائنز جاری

جنیوا: عالمی ادارہ صحت نے طویل المعیاد کورونا علامات کا سامنا کرنے والے مریضوں کے لیے نئی گائیڈلائنز جاری کردیں جس کے تحت اس پیچیدہ مسئلے سے نمٹنے میں آسانی ہوگی۔

طویل المدتی علامات اس مسئلے کو کہتے ہیں جس کا کورونا مریض صحت یابی کے بعد بھی سامنا کرتا ہے، لانگ کووڈ کی نشانیوں میں انتہائی تھکاوٹ اور مستقل کھانسی وغیرہ شامل ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے ماہرین نے مذکورہ مریضوں سے شواہد اکھٹے کرکے ہدایت نامہ(گائیڈلائنز) تیار کیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کا اس مسئلے کو سمجھنا ترجیحی بنیادوں میں سے ایک تھا۔ ڈبلیو ایچ او کی ہدایات کے مطابق طویل المعیاد کورونا علامات والے مریضوں کو فالو اپ دیکھ بھال تک رسائی ہونی چاہیے۔

گائیڈلائنز کے تحت گھر میں موجود کورونا مریضوں کے خون کا آکسیجن اور دل کی دھڑکن ماپنے کے لیے ‘پلس آکرزیمیٹر’ آلہ استعمال کیا جائے، اس طرح مریض کی حالت جاننے میں آسانی ہوگی اور یہ بھی پتا لگایا جاسکے گا کہ اسے اسپتال میں داخل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں ہے۔یہ بھی ہدایت کی گئی ہے مریض کی دیکھ بھال کرنے والے افراد کو آگاہی فراہم کی جائے۔

ہدایات کے مطابق ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ مریضوں کو پیٹ کے بل لیٹا کر بیداری کی حالت میں رکھیں اس سے جسم میں آکسیجن کا بہاؤ بہتر رہتا ہے۔ اینٹی کواآگولنٹ کا استعمال اتنی کم مقدار میں کی جائے جس سے مریض کی شریانوں میں خون نہ جمے۔ اینٹی کواآگولنٹ کی زیادہ مقدار سے دیگر بیماریاں بھی جنم لے سکتی ہیں۔0