فیض آباد دھرنا: تحریکِ لبیک پاکستان کی ناموسِ رسالت ریلی دھرنے میں تبدیل، فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ

مذہبی و سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے سینکڑوں کارکنان نے پیر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے جڑواں شہر راولپنڈی کے سنگم میں واقع فیض آباد چوک پر دھرنا دے دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ جب تک پاکستان میں تعینات فرانس کے سفیر کو واپس نہیں بھیجا جاتا، وہ دھرنا ختم نہیں کریں گے۔

تحریکِ لبیک پاکستان نے اتوار کو فرانس میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف راولپنڈی میں لیاقت باغ سے فیض آباد تک ’ناموسِ رسالتِ ریلی نکالی تھی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔ یہ ریلی اتوار کو رات گئے فیض آباد پل پر پہنچی جہاں اس کے شرکا نے دھرنا دے دیا۔

یہ وپی مقام ہے جہاں یہ جماعت 2017 اور پھر 2018 میں بھی دھرنا دے چکی ہے اور ماضی میں حکومت سے ایک معاہدے کے بعد اس نے دھرنا ختم کیا تھا۔

جماعت کے سربراہ خادم رضوی نہ توفیض آباد ریلی میں شریک ہوئے اور نہ ہی ابھی تک وہ دھرنے کے مقام پر پہنچے ہیں۔ تحریک لبیک کے ترجمان قاری زبیرکا کہنا ہے کہ اگرچہ تحریک لبیک کے امیر خادم حسین رضوی ابھی اس دھرنے میں موجود نہیں ہیں لیکن ان کی ہدایات واضح ہیں کہ جب تک ان کا مطالبہ پورا نہیں ہوتا اس وقت تک وہ اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ ابھی تک کوئی بھی حکومتی نمائندہ ان سے مذاکرات کے لیے نہیں آیا۔

اس ریلی اور دھرنے کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ زخمیوں میں ٹی ایل پی کے کارکن اور پولیس اہلکار دونوں شامل ہیں۔

مقامی پولیس کا دعویٰ ہے کہ ریلی میں شریک مظاہرین نے نہ صرف مری روڑ پر واقع دکانوں میں توڑ پھوڑ کی بلکہ وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ بھی کیا تھا۔ راولپنڈی پولیس نے 200 سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے

ریلی اور دھرنے سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ

فیض آباد میں ہونے والے دھرنے کے باعث راستے بند سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے رہائشیوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

دھرنے کی وجہ سے اسلام آباد ہائی وے کو کھنہ پل کے مقام پر بند کر دیا گیا ہے جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے دیگر راستوں پر بھی ناکے لگا دیے گئے ہیں یا انھیں کنٹینر رکھ کر بند کیا گیا ہے۔

دھرنے کے مقام کی جانب جانے والے تمام راستے بھی بند ہیں جبکہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے ٹریفک کے لیے متبادل راستوں کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے اپنی ایک ٹویٹ میں متبادل راستوں کے بارے میں بتایا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ ان راستوں کو کلیئر کروانے کی کوشش کر رہی ہے

اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور خاص طور پر ڈپلومیٹک انکلیو کی طرف جانے والے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ اس علاقے میں پولیس کے علاوہ رینجرز کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔

پیر کو راستوں کی بندش کی وجہ سے جہاں بچوں کی ایک بڑی تعداد سکول نہیں جا سکی وہیں پاک سیکریٹریٹ سمیت دیگر اہم نجی و سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے لوگ بھی کام پر جانے سے قاصر رہے۔

راولپنڈی، اسلام آباد کے بیشتر علاقوں میں اتوار کی صبح سے موبائل فون سروس بند کی گئی تھی جو پیر کو جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے۔ دھرنے کے مقام پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس دونوں معطل ہیں جبکہ جڑواں شہروں میں انٹرنیٹ کی سروس عمومی طور پر متاثر ہے۔

اتوار کو ریلی کے دوران جماعت کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کے دوران بھاری مقدار میں آنسو گیس بھی استعمال کی تھی۔

ٹی ایل پی کا دعویٰ ہے کہ ریلی کے دوران پولیس کی جانب سے ہونے والی آنسو گیس شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں لگنے سے اُن کے 50 کارکن زخمی ہوئے ہیں تاہم پولیس حکام نے اس کی تردید کی ہے۔ ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس سے درجن بھر اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

دھرنے میں موجود تحریک لبیک کے ترجمان قاری محمد زبیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب سے راولپنڈی پولیس اور اسلام آباد پولیس کی جانب سے شیلنگ کا سلسلہ جاری ہے اور رات گئے سے اب تک صرف دو گھنٹوں کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ رکی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ شیلنگ کی وجہ سے ٹی ایل پی کے 50 کے قریب کارکن زخمی ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے کارکن پُرامن تھے لیکن پولیس نے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ کر کے اُنھیں احتجاج کرنے اور دھرنا دینے پر مجبور کر دیا۔

تاہم راولپنڈی اور اسلام آباد میں پولیس کے حکام اس دعوے کی تردید کرتے ہیں اور ان کا کہنا کہ مظاہرین نے ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض تصاویر میں پولیس کے زخمی اہلکاروں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

اتوار کی شب تحریک لبیک کی ریلی فیض آباد پہنچنے پر انتظامیہ نے فیض آباد سمیت گرد نواح کی سٹریٹ لائٹس بند کر دی تھیں۔۔

ممتاز خان نے جو کہ راولپنڈی کے آریہ محلے کے رہائشی ہیں نے صحافی محمد زبیر کو بتایا تھا کہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان اتوار کی شام کے بعد سے شدید جھڑپیں شروع ہوئی تھیں۔ اس دوران پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی تھی۔

پولیس اور تحریک لبیک کے کارکنوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں پولیس کی جانب سے فائر کیے گئے آنسو گیس کے شیل مقامی آبادی اور بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی میں بھی گرے۔ جس کے باعث گھروں میں موجود خواتین، بچوں اور بزرگ افراد سمیت ہسپتال میں مریضوں کے ساتھ ساتھ تیمارداروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

اس جلوس کے قریب موجود مقامی صحافی ملک ظفر اقبال کے مطابق جب مظاہرین اتوار کی شام کے وقت لیاقت باغ سے چلے تو اس موقع پر پولیس نے جلوس کو روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ ملک ظفر اقبال کے مطابق خادم حسین رضوی کے بیٹے سعد رضوی بھی جلوس میں موجود تھے جبکہ مظاہرین ڈنڈوں اور پتھروں سے لیس تھے۔

راولپنڈی پولیس کی سپیشل برانچ کے ایک اہلکار کے مطابق گذشتہ رات لیاقت باغ اور اس کے قریبی علاقوں میں مظاہرین کی تعداد چار ہزار سے زیادہ تھی۔ اہلکار کے مطابق صورتحال کو دیکھتے ہوئے اضافی نفری طلب کرنے سے متعلق پولیس کے اعلیٰ حکام سے کہا گیا تھا۔

اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ پولیس کے علاوہ رینجرز کے اہلکاروں کو بھی پولیس کی مدد کے لیے طلب کیا گیا تھا جنھیں حساس مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔

راولپنڈی کے علاقے لیاقت باغ کی قریبی آبادی کے رہائشی عرفان تنولی نے صحافی محمد زبیر کو بتایا کہ ’کل سے انتظامیہ کی جانب سے کھڑی رکاوٹوں کے سبب ہم لوگ اپنے گھروں میں عملاً قید ہو گئے۔ بجلی کی عدم موجودگی کی بنا پر انٹرنیٹ وائی فائی کنکشن بھی کام نہیں کر رہے۔‘

لیاقت باغ کے رہائشی علاقے میں موجود ایک اور مقامی شخص نصیر بھٹی کا بھی کہنا تھا کہ ’تحریک لبیک کے کارکنان ڈنڈوں اور پتھروں سے مسلح ہیں وہ پولیس کی شیلنگ کے جواب میں پتھراؤ کر رہے ہیں۔ پہلے تو پولیس ان پر شیلنگ کرتی رہی تھی مگر بعد ازاں پولیس نے بھی جوابی پتھراؤ کیا۔‘

اس سے قبل ریلی کی کوریج کے لیے آئے ہوئے مقامی صحافی بابر ملک کا کہنا ہے کہ جونہی وہ حالات کا جائزہ لینے کے باہر نکلے تو وہاں پر موجود تحریک لبیک کے کارکنوں نے اُنھیں پکڑ لیا اور ان سے موبائل بھی چھین لیا تھا۔

بابر ملک کے بقول ان مظاہرین نے ان کا موبائل پر بیان ریکارڈ کیا اور کہا کہ وہ شہر کی صورتحال کے بارے میں بتائیں اور اگر ان کی ایک بات بھی غلط ثابت ہوئی تو اُنھیں جسمانی طورپر نقصان پہنچایا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ جب وہ بیان ریکارڈ کروا رہے تھے تو ان کے پیچھے تحریک لبیک کے کارکن ڈنڈے لے کر کھڑے تھے۔

ریلی کی کوریج کے لیے آنے والے چند صحافیوں کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو تصاویر اور ویڈیوز بنانے سے روکا جا رہا ہے جبکہ ’موبائل سروس بند ہونے کی وجہ سے مشکلات ہیں