توشہ خانہ ریفرنس؛ آصف زرداری کے وکیل اور نیب پراسیکیوٹر کے مابین تلخ کلامی

اسلام آباد: توشہ خانہ ریفرنس کیس کی سماعت پر سردار مظفر عباسی اور آصف زرداری کے معاون وکیل کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوگیا۔

احتساب عدالت میں توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج اصغر علی نے کی، آصف زرداری اور عبدالغنی مجید نے عدالت حاضری سے ایک روز کی استثنیٰ کی درخواست دے دی، معاون وکیل فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ فاروق نائیک سپریم کورٹ بار کے الیکشن میں مصروف ہیں۔

استثنیٰ کی درخواست پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی اور آصف زرداری کے معاون وکیل کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ معاون وکیل فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ دوسری عدالت میں بھی سماعت چل رہی ہے بیک وقت دو کیسز میں کیسے نمائندگی کروں؟۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ آج عدالت میں ملزم بھی موجود نہیں ہے، ملزمان حاضری سے استشنی کی درخواست دے دیتے ہیں، ٹرائل کے عمل کو آگے بڑھایا جائے۔

سردارمظفر عباسی کا کہنا تھا کہ گواہ کے والد کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے لیکن وہ عدالت میں موجود ہے، جب کہ ملزمان کے وکلا کبھی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں مصروف ہوجاتے ہیں، کبھی عدالت کے سامنے ہڑتال کا بہانہ کر دیا جاتا ہے تو کبھی تاریخ پر آکر التواء کی درخواستیں دے دی جاتی ہے، یہاں تاریخیں لیتے ہیں اور باہر میڈیا میں کہتے ہیں کہ کیس چل نہیں رہے، عدالت سے استدعا ہے کہ وہ ٹرائل کاعمل بڑھانے کیلئے ملزمان کے وارنٹس جاری کرے، روزانہ کی بنیاد پر ریفرنس کی سماعت کی جائے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پچھلی سماعت میں فاروق نائیک کی مرضی کے مطابق سماعت کی تاریخ دی تھی، اگر وہ آئندہ سماعت پر پیش نہ ہوئے تو ملزمان کے وارنٹس جاری کریں گے، عدالت نے آصف زرداری ، خواجہ انور مجید، عبدالغنی مجید کی ایک روز حاضری سے استشنی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ریفرنس کی سماعت دو نومبر تک ملتوی کردی۔