لیڈی ہیلتھ ورکرز اور حکومت کے درمیان معاہدہ، دھرنا ختم

پاکستان کے وفاقی دارلحکومت میں اسلام آباد میں سات روز سے جاری لیڈی ہیلتھ ورکرز کا دھرنا حکومت کے ساتھ معاہدہ طے پانے کے بعد منگل کے روز ختم ہو گیا ہے۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز نے گزشتہ ہفتے تنخواہوں میں اضافے اور سروس سٹریکچر طے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسلام آباد کے ڈی چوک پر دھرنا دے رکھا تھا۔ پیر اور منگل کی درمیانی شب لیڈی ہیلتھ ورکرز اور حکومت کے درمیان ایک تحریری معاہدہ طے پایا گیا جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ساتھ معاہدہ حکومت کی جانب سے وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان اور دیگر صوبائی نمائندوں نے کیے۔ معاہدے کے مطابق لیڈی ہیلتھ ورکرز کی جانب سے چھ مطالبات کے حل کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جبکہ پورے ملک میں یکساں تنخواہوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ معاہدے میں پولیو مہم کے دوران سکیورٹی مسائل کے حوالے سے چاروں صوبوں کے انسپکٹر جنرل کو وفاقی حکومت خطوط ارسال کرے گی جس میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مہم کے دوران تحفظ کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات دی جائیں گی۔

لیڈی ہیلتھ ورکرز کی پنشن اور دیگر مراعات دینے کا معاملہ وزیراعلی پنجاب کی جانب سے تشکیل کی گئی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے جو کہ قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق معاملہ حل کرے گا۔ اس کے علاوہ پنجاب حکومت کو لیڈی ہیلتھ ورکرز کا سروس سٹریکچر تشکیل دینے کے لیے تین مہینوں کا وقت دیا گیا ہے جس میں حکومت پنجاب صوبے بھر کی لیڈی ہیلتھ ورکرز کے سروس سٹریکچر تشکیل دے گی۔

سیکریٹری ہیلتھ خیبر پختونخوا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ورکرز کے ساتھ اجلاس بلائیں جس میں ان کے تحفظات کو دور کیا جائے۔
لیڈی ہیلتھ ورکرز کے نمائندوں نے حکومت کی جانب سے کی گئی یقین دہانیوں کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔