قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے گو نیازی گو کے نعرے، وزیراعظم اجلاس چھوڑ کر چلے گئے

وزیراعظم عمران خان کے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پہنچتے ہی اپوزیشن نے شدید احتجاج شروع کیا اور نعرے بازی کی جس پر وہ فوراً واپس چلے گئے۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس شروع ہوا تو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی شیلنگ اور دہشت گردی میں شہید ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان بھی اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچے لیکن آغاز میں ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور احتجاج کیا۔ اپوزیشن ارکان نے حکومت مخالف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جبکہ پرزور احتجاج پر اسپیکر نے اجلاس 20 منٹ کے لیے ملتوی کردیا۔ وزیراعظم عمران خان کی آمد پر اپوزیشن ارکان نے جزائر پر قبضہ نامنظور، گو نیازی گو کے نعرے لگائے اور حکومت مخالف پوسٹر لہراتے رہے۔ اپوزیشن گو نیازی گو کے نعرے لگاتے رہے اور وزیراعظم عمران خان ایوان سے اٹھ کر چلے گئے، جس کے بعد اسپیکر نے اجلاس 20 منٹ کے لیے ملتوی کردیا۔

قبل ازیں اپوزیشن کے گجرانوالہ میں احتجاجی جلسے کے باوجود صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کیا تھا جبکہ اپوزیشن نے اس فیصلے پر تنقید کی تھی۔

صدر مملکت نے آئین کے آرٹیکل 54 (1) کے تحت دیے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یہ اجلاس طلب کیے ہیں تاہم نوٹی فکیشن جاری ہونے کے فورا بعد ہی پیپلز پارٹی نے حکومت کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے حکومت کے اس اقدام کو اپوزیشن رہنماؤں کی گوجرانوالہ میں ریلی میں شرکت سے روکنے کی کوشش قرار دیا۔

ٹوئٹر پر اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس آج اچانک طلب کیا گیا تاکہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کو گوجرانوالہ جلسے میں شرکت سے روکا جاسکے، پوسٹرز ہٹائے جارہے ہیں، جھنڈے اتارے گئے ہیں، ہر جگہ کنٹینر لگا دیئے گئے، پی پی پی اور پی ڈی ایم کارکنوں کو گرفتار کیا جارہا ہے، کیا تباہی سرکار کو معلوم نہیں کہ یہ طریقہ کام نہیں کرے گا‘۔